Surah An Nisa Ayat 115 (4:115)
The Women · Juz 5 · Madani
وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا 115
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جو اس کے بعد کہ اس کے لئے ہدایت بالکل واضح ہوچکی رسول کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ پھرتا ہے اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔
Tafseer (Urdu)
{و من یشاقق الرسول: اور جو رسول کی مخالفت کرے۔} اس ایت میں دو چیزوں سے منع کیا گیاہے جو حقیقت میں ایک ہیں۔ پہلی چیز کہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مخالفت جائز نہیں اور دوسری بات کہ مسلمانوں کے راستے سے ہٹ کر چلنا جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں کا راستہ اطاعت رسول کا راستہ ہے تو اس سے ہٹنا اطاعت رسول سے ہٹنا ہوگا۔ مسلمانوں کا اجماع حجت اور دلیل ہے: یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کا اجماع و اتفاق حجت و دلیل ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں جیساکہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں۔(مدارک النساء تحت الایۃ: ۱۱۵ ص۲۵۳) نیز اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جماعت پر اللہ عزوجل کا ہاتھ ہے۔(نسائی کتاب تحریم الدم قتل من فارق الجماعۃ۔۔۔ الخ ص۶۵۶ الحدیث: ۴۰۲۷)ایک اور حدیث میں ہے کہ سواد اعظم یعنی بڑی جماعت کی پیروی کرو جو اس گروہ سے جدا ہوا وہ جہنم میں گرا۔ (مستدرک کتاب العلم من شذ شذ فی النار ۱ / ۳۱۷ الحدیث: ۴۰۳) اس سے واضح ہے کہ حق مذہب اہل سنت و جماعت ہے کیونکہ یہی مسلمانوں کی اکثریت کا ہے اور یہی بڑی جماعت ہے۔