Surah An Nisa Ayat 116 (4:116)
The Women · Juz 5 · Madani
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا 116
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا۔
Tafseer (Urdu)
{ان الله لا یغفر ان یشرك به: اللہ شرک کو نہیں بخشے گا۔}اس ایت کے شان نزول کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا قول ہے کہ یہ آیت ایک بوڑھے اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے سیدالانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا نبی اللہ! میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں اس کے سوا کہ جب سے میں نے اللہ عزوجل کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا ہوں اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا اور اس کے سوا کسی اور کو کارساز حقیقی نہیں بنایا اور جرا ت و دلیری کے ساتھ گناہوں میں مبتلانہ ہوا اور ایک پل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ عزوجل سے بھاگ سکتا ہوں میں شرمندہ ہوں تائب ہوں مغفرت چاہتا ہوں اللہ عزوجل کے یہاں میرا کیا حال ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (خازن النساء تحت الایۃ: ۱۱۶ ۱ / ۴۳۰) ایت’’ ان الله لا یغفر ان یشرك به‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: (1) …یہ آیت اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ شرک نہیں بخشا جائے گا جبکہ مشرک اپنے شرک پر مرے اور یہی حکم کفر کا ہے بلکہ علماء نے یہاں شرک سے مراد کفر لیا ہے۔ ہاں کافر و مشرک زندگی میں توبہ کرے تواس کی توبہ یقینا مقبول ہے ۔ (2)…ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ حقوق اللہ اورحقوق العباد تمام گناہ قابل مغفرت ہیں اگرچہ حقوق العبادکی مغفرت کا طریقہ یہ ہوگا کہ اللہ عزوجل حق العبدصاحب حق سے معاف کرا دے گا۔ (3)…یہ بھی معلوم ہوا کہ کفر و شرک کے علاوہ گناہوں کی بخشش یقینی نہیں بلکہ امید ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ جسے چاہے بخشے۔ اب اللہ عزوجل کسے چاہے گا یہ معلوم نہیں لہذا یہ ایت گناہ پر دلیر نہیں کرتی بلکہ گناہ سے روکتی ہے۔