Surah An Nisa Ayat 15 (4:15)
The Women · Juz 4 · Madani
وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآىٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْۚ-فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرلیں ان پر اپنوں میں سے چار مردوں کی گواہی لو پھر اگروہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند کردو یہاں تک کہ موت ان (کی زندگی) کو پورا کردے یا اللہ ان کے لئے کوئی راستہ بنا دے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے۔
Tafseer (Urdu)
{فاستشهدوا علیهن اربعة منكم: ان پر اپنوں میں سے چار مردوں کی گواہی لو۔} مسلمانوں میں سے جو عورتیں زنا کا ارتکاب کریں ان کے بارے حکم دیا گیا کہ ان پر زنا کے ثبوت کیلئے چار مسلمان مردوں کا گواہ ہوناضروری ہے جو عورتوں کے زنا پر گواہی دیں۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں حکام سے خطاب ہے یعنی وہ چار مردوں سے گواہی سنیں۔(خازن النساء تحت الایۃ: ۱۵ ۱ / ۳۵۷) زنا کے ثبوت کے لئے گواہی کی شرائط: زنا کا ثبوت گواہی سے ہو تو ضروری ہے کہ زنا کے گواہ چار عاقل بالغ مسلمان مرد ہوں کوئی عورت نہ ہو چاروں نیک اور متقی ہوں اور انہوں نے ایک وقت معین میں زنا کا یوں مشاہدہ کیا ہو جیسے سرمہ دانی میں سلائی نیز یہ چاروں گواہ حلف شرعی کے ساتھ گواہی دیں۔ اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہوئی تو زنا ثابت نہ ہو گا اور گواہی دینے والے شرعا اسی اسی کوڑوں کے مستحق ہوں گے۔(فتاوی رضویہ ۱۳ / ۶۲۳ ملخصا) {فامسكوهن فی البیوت: ان عورتوں کو گھر میں بند کر دو۔} زانیہ عورتوں کو موت انے تک گھروں میں قید رکھنے کا حکم زنا سے متعلق کوڑوں اور رجم کی سزا مقرر ہونے سے پہلے تھا جب زنا کی حد کے بارے میں احکام ناز ل ہو ئے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا۔(تفسیرات احمدیہ النساء تحت الایۃ: ۱۵ ص۲۴۰) زنا اور قذف کی سزا کا بیان سورہ نور ایت نمبر 2اور 4 میں بیان ہواہے۔ زنا کی مذمت: اس ایت میں زنا کرنے والوں کی سزا سے متعلق بعض ا حکام بیان ہوئےاس مناسبت سے ہم یہاں زنا کی مذمت پر 4 احادیث ذکر کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں پر زنا کی قباحت و برائی مزید واضح ہو اور وہ ا س برے فعل سے بچنے کی کوشش کریں چنانچہ (1)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ جو عورت کسی قوم میں اس کو داخل کردے جو اس قوم سے نہ ہو (یعنی زنا کرایا اور اس سے اولاد ہوئی) تو اسے اللہ عزوجل کی رحمت کا حصہ نہیں ملے گا اور اللہ تعالی اسے جنت میں داخل نہ فرمائے گا۔ (ابو داود کتاب الطلاق باب التغلیظ فی الانتفاء ۲ / ۴۰۶ الحدیث: ۲۲۶۳) (2)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس بستی میں زنا اور سود ظاہر ہوجائے تو انہوں نے اپنے لیے اللہ عزوجل کے عذاب کو حلال کرلیا۔ (مستدرک کتاب البیوع اذا ظہر الزنا والربا فی قریۃ۔۔۔ الخ ۲ / ۳۳۹ الحدیث: ۲۳۰۸) (3)…حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جس قوم میں زنا ظاہر ہوگا وہ قحط میں گرفتار ہوگی اور جس قوم میں رشوت کا ظہور ہوگا وہ رعب میں گرفتار ہوگی۔ (مشکوۃ المصابیح کتاب الحدود الفصل الثالث ۱ / ۶۵۶ الحدیث: ۳۵۸۲) (4)…حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ ساتوں اسمان اور ساتوں زمینیں بوڑھے زانی پر لعنت کرتی ہیں اور زانیوں کی شرمگاہ کی بدبو جہنم والوں کو ایذا دے گی۔ (مجمع الزوائد کتاب الحدود والدیات باب ذم الزنا ۶ / ۳۸۹ الحدیث: ۱۰۵۴۱)