Surah An Nisa Ayat 16 (4:16)
The Women · Juz 4 · Madani
وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَاۚ-فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تم میں جو مرد عورت ایسا کام کریں ان کو تکلیف پہنچاؤ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اوراپنی اصلاح کرلیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تم میں جو مرد عورت ایسا کام کریں ان کو ایذا دو پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فاذوهما:ان دونوں کوتکلیف پہنچاو۔}بے حیائی کا ارتکاب کرنے والوں کے متعلق سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں ایذاء دو جیسے جھڑک کر برا بھلا کہہ کر شرم دلا کر جوتیاں وغیرہ مار کرزبانی اور بدنی دونوں طرح سے ایذا دو۔ زنا کی سزا پہلے ایذا دینا مقرر کی گئی پھر قید کرنا پھر کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا۔ (مدارک النساء تحت الایۃ: ۱۶ ص۲۱۷) یہ ایت بھی حدزنا کی ایت سے منسوخ ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ پچھلی ایت میں فاحشہ سے مرا د خود عورت کا عورت سے بے حیائی کا کام کرنا ہے اور ’’و الذن یاتینها ‘‘ سے مرد کا مرد سے لواطت کرنا مراد ہے۔ اس صورت میں یہ ایت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لواطت اور مساحقت (عورتوں کی عورتوں سے بے حیائی) میں حد مقرر نہیں بلکہ تعزیر ہے۔ یعنی قاضی کی صوابدید پر ہے وہ جو چاہے سزا دے۔ یہ ہی امام اعظم ابو حنیفہ کا قول ہے۔(تفسیر کبیر النساء تحت الایۃ: ۱۶ ۳ / ۵۲۸ تفسیرات احمدیہ النساء تحت الایۃ: ۱۶ ص۲۴۲ ملتقطا) یہی وجہ ہے کہ لواطت کے مرتکب کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے مختلف سزائیں دیں اگر لواطت میں حد ہوتی تو ایک ہی سزا دی جاتی اس میں اختلاف نہ ہوتا۔ ’’حد‘‘ مخصوص ہوتی ہے جیسے سو کوڑے اسی کوڑے وغیرہ۔ جبکہ تعزیر وہاں ہوتی ہے جہاں شرعی حد مقرر نہ ہو بلکہ قاضی کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے چاہے تو دس کوڑے مارنے کا فیصلہ کردے اور چاہے تو بیس کا اور چاہے تو کوئی اور سزا دیدے۔ {فان تابا و اصلحا:پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں۔}فرمایا گیا کہ بے حیائی کا ارتکاب کرنے والے اگر پچھلے گناہوں پر نادم ہو جائیں اور ائندہ کے لئے اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو ۔اس سے معلوم ہوا کہ تعزیر کا مستحق مجرم اگر تعزیر سے پہلے صحیح معنی میں توبہ کر لے تو ا س پر خواہ مخواہ تعزیر لگانا ضروری نہیں۔ توبہ کے معنی: توبہ کے معنی ہوتے ہیں رجوع کرنا لوٹنا۔ اگر یہ بندے کی صفت ہو تو معنی ہوں گے گناہ یا ارادہ گناہ سے رجوع کرنااور اگر رب تعالی کی صفت ہو تو معنی ہوں گے بندے کی توبہ قبول فرمانا یا اپنی رحمت کو بندے کی طرف متوجہ کرنا۔