Surah An Nisa Ayat 164 (4:164)
The Women · Juz 6 · Madani
وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَؕ-وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًا 164
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور (ہم نے بھیجے) بہت سے ایسے رسول جن کا ذکر ہم تم سے پہلے فرما چکے اور بہت سے وہ رسول جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا اوراللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور رسولوں کو جن کا ذکر آگے ہم تم سے فرما چکے اور ان کو جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا۔
Tafseer (Urdu)
{و رسلا: اور بہت سے رسول۔} ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے رسول وہ ہیں جن کا قرآن شریف میں نام لے کر ذکر ہوچکا اور بہت سے وہ ہیں جن کا اب تک ان کے ناموں کی تفصیل کے ساتھ قرآن پاک میں ذکر نہیں فرمایا گیا۔ ان سب رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام میں وہ کتنے ہیں جن پر یکبارگی کتاب اتری۔ تو جب سب نبیوں علیہم الصلوۃ والسلام پر یکبارگی کتاب نہیں اتری تو نبی اخر الزمان صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر یکبارگی کتاب نہ اترنا یہودیوں کیلئے کیوں باعث اعتراض بنا ہوا ہے {و كلم الله موسى تكلیما: اور اللہ نے موسی سے کلام فرمایا۔} یہ بھی یہودیوں کے اعتراض کے جواب کا حصہ ہے کہجس طرح حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے بے واسطہ کلام فرمانا دوسرے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نبوت کیلئے انکار کا ذریعہ نہیں ہوسکتا جن سے اس طرح کلام نہیں فرمایا گیا توایسے ہی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر کتاب کا یکبارگی نازل ہونا بھی دوسرے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نبوت کے انکار کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔(خازن النساء تحت الایۃ: ۱۶۴ ۱ / ۴۵۲) ایت کے اس حصے سے دو مسئلے معلوم ہوئے :ایک یہ کہ حضرت موسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام انبیاء بنی اسرائیل علیہم الصلوۃ والسلام میں بہت شان والے ہیں کہ ان کا ذکر خصوصیت سے علیحدہ ہوا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالی نے بعض انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو خاص عظمتیں بخشی ہیں ایک نبی کی خصوصیت تمام نبیوں میں ڈھونڈنا غلطی ہے جیسے ہر نبی کلیم اللہ نہیں۔