Surah An Nisa Ayat 166 (4:166)
The Women · Juz 6 · Madani
لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ یَشْهَدُوْنَؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاﭤ 166
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariلیکن اے حبیب! اللہ گواہی دیتا ہے اس کی جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا، اس نے اسے اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایاہے اور فرشتے گواہی دیتے ہیں اور اللہ کافی گواہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanلیکن اے محبوب اللہ اس کا گواہ ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا وہ اس نے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے گواہ ہیں اور اللہ کی گواہی کافی۔
Tafseer (Urdu)
{لكن الله یشهد: لیکن اللہ گواہی دیتا ہے۔} اس ایت مبارکہ کی تفسیر میں دو طرح کے اقوال ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے (1)… مشہود لہ یعنی جس کے حق میں گواہی دی جارہی ہے وہ قران پاک ہے کیونکہ یہودیوں نے اسمان سے یکبارگی کتاب اتارنے کا مطالبہ کیا تھا ۔(النساء ایت ۱۵۳) اس ایت میں ان کے مطالبے کا جواب ہے۔ اس صورت میں مفہوم یہ بنتا ہے کہ یہودی اگرچہ قران کے اسمانی کتاب ہونے کو نہ مانیں لیکن اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ عزوجل اپ کی طرف اترنے والے قران کی حقانیت کی گواہی دیتا ہے اور اس کے اللہ عزوجل کی طرف سے نازل ہونے کے فرشتے بھی گواہ ہیں اور اللہ عزوجل کی گواہی کافی ہے۔ (2)… دوسرا مفہوم یہ ہے کہ مشہود لہ یعنی جس کے حق میں گواہی ہے وہ خاتم المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت ہے اور جس کے ذریعے گواہی دی جارہی ہے وہ قران پاک ہے اور معنی یہ بنا کہ یہودیوں نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کا انکار کیا تو اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کی گواہی قران کے ذریعے دی اور فرشتے بھی نبوت پر گواہ ہوئے۔(تفسیر کبیر النساء تحت الایۃ: ۱۶۶ ۴ / ۲۶۸-۲۶۹ صاوی النساء تحت الایۃ: ۱۶۶ ۲ / ۴۶۰ ملتقطا) اللہ عزوجل کی گواہی یہ ہے کہ اس نے گزشتہ کتابوں میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خبر دی اور سرکار کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو معجزات عطا فرمائے جیسے وزیر یا حاکم کا شاہی تمغہ بادشاہ کی گواہی ہے۔