Surah An Nisa Ayat 22 (4:22)
The Women · Juz 4 · Madani
وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًاؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اپنے باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کروالبتہ جو پہلے ہوچکا (وہ معاف ہے۔) بیشک یہ بے حیائی اور غضب کا سبب ہے، اور یہ بہت برا راستہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرومگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی اور غضب کا کام ہے اور بہت بری راہ ۔
Tafseer (Urdu)
{ و لا تنكحوا ما نكح ابآؤكم: اور اپنے باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو۔} زما نہ جاہلیت میں رواج تھا کہ باپ کے انتقال کے بعد بیٹا اپنی سگی ماں کو چھوڑ کر باپ کی دوسری بیوی سے شادی کر لیتا تھا اس ایت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا۔(تفسیر قرطبی النساء تحت الایۃ: ۲۲ ۳ / ۷۳ الجزء الخامس) یہاں اگر نکاح سے مراد عقد نکاح ہے تو معلوم ہوا کہ سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے اگرچہ باپ نے خلوت سے پہلے اسے طلاق دے دی ہو اور اگر نکاح سے مراد صحبت ہے تو معلوم ہوا کہ جس عورت سے اپنا باپ صحبت کرے خواہ نکاح کر کے یا زنا کی صورت میں یا لونڈی بنا کر بہر صورت وہ عورت بیٹے پر حرام ہے کیونکہ یہ بیٹے کی ماں کی طرح ہے۔ {ما قد سلف:جو ہو گزرا۔} یعنی جاہلیت کے زمانہ میں تم نے جو ایسے نکاح کر لئے اور اب وہ عورتیں مر بھی چکیں تم پر اس کا گناہ نہیں کیونکہ وہ گناہ قانون بننے سے پہلے تھے۔ یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ اگر مجوسی اسلام لائے اور اس کے نکاح میں اپنی ماں یا بہن ہے تو اسے چھوڑ دینا فرض ہے لیکن اس نے زمانہ کفر میں جو نکاح کئے ہوں ان سے جو اولاد ہو چکی ہو وہ اولاد حلالی ہو گئی کیونکہ کفار پر اس طرح کے شرعی احکام جاری نہیں۔