Surah An Nisa Ayat 42 (4:42)
The Women · Juz 5 · Madani
یَوْمَىٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُؕ-وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا 42
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس دن کفار اور رسول کی نافرمانی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے اور وہ کوئی بات اللہ سے چھپا نہ سکیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{یومىذ یود الذین كفروا:اس دن کافر تمنا کریں گے۔} قیامت کے دن کی ہولناکی اور اپنے اعمال کا بدلہ دیکھ کر کفار تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پیدا ہی نہ کیا گیا ہوتا۔ کاش! زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں دفن ہو جائیں۔ کاش! ہمیں بھی جانوروں کی طرح مٹی کر دیا جاتا پھر جب ان کی خطاوں پر باز پرس ہو گی تو قسمیں کھا کر کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم مشرک نہ تھے تب ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی پھرا ن کے اعضا ء بول اٹھیں گے اور سب اعمال بیان کر دیں گےاس طرح یہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اللہ تعالی سے کوئی بات بھی چھپا نہ سکیں گے۔ اللہ تعالی کے عذاب سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے: یہ ایت تو کافروں کے بارے میں نازل ہوئی لیکن بہرحال دنیا میں تو ہر ادمی کو اللہ عزوجل کے عذاب سے ڈرنا چاہیے یہی وجہ ہے قیامت کی ہولناکی اور عذاب جہنم کی شدت کے پیش نظر ہمارے اکابر اسلاف اور بزرگان دین بھی تمنا کرتے تھے کہ کاش وہ پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔ امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک بار پرندے کودیکھ کر ارشاد فرمایا: اے پرندے !کاش! میں تمہاری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے : میری تمناہے کہ میں ایک مینڈھا ہوتا جسے میرے اہل خانہ اپنے مہمانوں کے لئے ذبح کر دیتے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے :کاش! میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے: میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھے وفات کے بعد نہ اٹھایا جائے۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہما فرمایا کرتے: کاش! ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرمایا کرتیں : کاش! میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے کاش! میں راکھ ہوتا۔(قوت القلوب الفصل الثانی والثلاثون شرح مقام الخوف ووصف الخائفین۔۔۔ الخ۱ / ۴۵۹-۴۶۰ ملخصا) یہ کلمات ان ہستیوں کے ہیں جو زبان رسالت سے قطعی جنتی ہونے کی بشارت سے بہرہ مند ہوئے جبکہ اب کے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ عمل نام کی کوئی چیز پلے نہیں اور بے حساب مغفرت کایقین دل میں سجائے بیٹھے ہیں۔ اے کاش! ہمیں بھی حقیقی معنوں میں ایمان پر خاتمے کی فکر قبرو حشر کے پر ہول لمحات کی تیاری کی سوچ عذاب جہنم سے ڈر اور جبار و قہار رب عزوجل کا خوف نصیب ہو جائے۔