Surah An Nisa Ayat 48 (4:48)
The Women · Juz 5 · Madani
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اوراس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا توبیشک اس نے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا۔
Tafseer (Urdu)
{ان الله لا یغفر ان یشرك به: بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔} ایت کا معنی یہ ہے کہ جو کفر پر مرے اس کی بخشش نہیں ہوگی بلکہ اس کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے اور جس نے کفر نہ کیا ہو وہ خواہ کتنا ہی گنہگاراور کبیرہ گناہوں میں ملوث ہو اور بے توبہ بھی مر جائے تب بھی اس کے لئے جہنم میں ہمیشہ کا داخلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی مغفرت اللہ عزوجل کی مشیت (یعنی اس کے چاہنے) پرہے چاہے تووہ کریم معاف فرما دے اور چاہے تو اس بندے کو اس کے گناہوں پر عذاب دینے کے بعد پھر اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرما دے ۔ اس آیت میں یہودیوں کو ایمان لانے کی ترغیب ہے ۔ مغفرت کی امید پر گناہ کرنا بہت خطرناک ہے: یہ یاد رہے کہ کفر کے علاوہ قیامت کے دن ہر گناہ کے بخشے جانے کا امکان ضرور ہے مگر اس امکان کی امید پر گناہوں میں پڑنا بہت خطرناک ہے بلکہ بعض صورتوں میں گناہ کو ہلکا سمجھنے کی صورت میں خود کفر ہوجائے گا۔ کتنا کریم ہے وہ خدا عزوجل جو لاکھوں گناہ کرنے والے بندے کو معافی کی امید دلا رہا ہے اور کتنا گھٹیا ہے وہ بندہ جو ایسے کریم کے کرم و رحمت پر دل و جان سے قربان ہوکر اس کی بندگی میں لگنے کی بجائے اس کی نافرمانیوں پر کمر بستہ ہے۔ حضرت وحشی رضی اللہ تعالی عنہ کا قبول اسلام: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ وحشی جس نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا تھا وہ سلطان دو جہاں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: مجھے امان دیجئے تا کہ میں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے خدا کا کلام سنوں کہ ا س میں میری مغفرت اور نجات ہے۔ ارشاد فرمایا: مجھے یہ پسند تھا کہ میری نظر تم پر اس طرح پڑتی کہ تو امان طلب نہ کر رہا ہوتا لیکن اب تو نے امان مانگی ہے تو میں تمہیں امان دیتا ہوں تاکہ تو خدا عزوجل کا کلام سن سکے اس پر یہ ایت نازل ہوئی: و الذین لا یدعون مع الله الها اخر(الفرقان :۶۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے۔ وحشی نے کہا: میں شرک میں مبتلا رہا ہوں اور میں نے ناحق خون بھی کیا ہے اور زنا کا بھی مرتکب ہوا ہوں کیا ان گناہوں کے ہوتے حق تعالی مجھے بخش دے گا اس پرسرکار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی اور کوئی کلام نہ فرمایا پھر یہ ایت نازل ہوئی: الا من تاب و امن و عمل عملا صالحا(الفرقان:۷۰) ترجمہ کنزالعرفان: مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے۔ وحشی نے کہا: اس ایت میں شرط کی گئی ہے کہ گناہوں سے مغفرت اسے حاصل ہو گی جو توبہ کرلے اور نیک عمل کرےجبکہ میں نیک عمل نہ کر سکا تو میرا کیا ہو گا تب یہ ایت تلاوت فرمائی: ان الله لا یغفر ان یشرك به و یغفر ما دون ذلك لمن یشآء(النساء:۴۸) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔ اب وحشی نے کہا: اس ایت میں مغفرت مشیت الہی کے ساتھ وابستہ ہے ممکن ہے میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کے ساتھ حق تعالی کی مشیت مغفرت وابستہ نہ ہوا س کے بعد یہ ایت نازل ہوئی : قل یعبادی الذین اسرفوا على انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله(الزمر :۵۳) ترجمہ کنزالعرفان: تم فرماو اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یہ ایت سن کر وحشی نے کہا:اب میں کوئی قید اور شرط نہیں دیکھتا اور اسی وقت مسلمان ہو گیا(مدارج النبوہ قسم سوم باب ہفتم: ذکر سال ہفتم وفتح مکہ ۲ / ۳۰۲) مدارج کے علاوہ بقیہ کتابوں میں یہ مذکور ہے کہ یہ عرض معروض نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں نہ ہوئی بلکہ دوسرے ذریعے سے ہوئی۔