Surah An Nisa Ayat 51 (4:51)
The Women · Juz 5 · Madani
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا 51
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا وہ بت اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ (مشرک) مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تم نے وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ الم تر الى الذین اوتوا نصیبا من الكتب: کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا۔} کعب بن اشرف اور اس کے ساتھ مزید ستر یہودی مشرکین مکہ کے پاس پہنچے اور انہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جنگ کرنے پر امادہ کیا۔ قریش بولے کہ ہمیں خطرہ ہے کہ تم بھی کتابی ہو اور ان سے قریب ترہو۔ اگر ہم نے ان سے جنگ کی اور تم ان سے مل گئے تو ہم کیا کریں گے اگر ہمیں اطمینان دلانا ہو تو ہمارے بتوں کو سجدہ کرو ان بد نصیبوں نے سجدہ کر لیا۔ ابو سفیان نے کہا کہ بتاو ہم ٹھیک راستہ پر ہیں یا محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کعب بن اشرف نے کہا کہ تم ٹھیک راہ پر ہو۔ اس پر یہ ایت اتری۔(تفسیر کبیر النساء تحت الایۃ: ۵۱ ۴ / ۱۰۱ خازن النساء تحت الایۃ: ۵۱ ۱ / ۳۹۲ ملتقطا) اور اللہ تعالی نے ان پر لعنت فرمائی کہ انہوں نے حضور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عداوت میں مشرکین کے بتوں تک کو پوجا۔ طاغوت کا معنی: اس ایت میں ’’طاغوت‘‘ کا لفظ ایا ہے۔ یہ ’’طغی‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے ’’سرکشی‘‘ ۔جو رب عزوجل سے سرکش ہو اور دوسروں کو سرکش بنائے وہ طاغوت ہے خواہ شیطان ہو یا انسان۔ قران کریم نے سرداران کفر کو بھی طاغوت کہا ہے۔ چونکہ طاغوت کے لفظ میں سرکشی کا مادہ موجود ہے اس لئے مقربین بارگاہ الہی کیلئے یہ لفظ ہرگز استعمال نہیں ہوسکتا بلکہ جو ان کیلئے یہ لفظ استعمال کرے وہ خود ’’طاغوت‘‘ ہے۔