Surah An Nisa Ayat 66 (4:66)
The Women · Juz 5 · Madani
وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْؕ-وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًا 66
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ہم ان پر فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر وہ ہر وہ کام کرلیتے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو ان کے لئے بہت بہتراورثابت قدمی کا ذریعہ ہوتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا ۔
Tafseer (Urdu)
{و لو انا كتبنا علیهم: اور اگر ہم ان پر فرض کردیتے۔} یہاں مخلص و منافق سب کے اعتبار سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر ہم ان پر فرض کردیتے کہ اپنے اپ کو قتل کرویا اپنے گھروں سے نکل جاو تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے جیسا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکل جانے اور توبہ کے لئے اپنے آپ کو قتل کا حکم دیا تھا۔ اس ایت کا شان نزول کچھ اس طرح ہے کہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک یہودی نے کہا کہ اللہ عزوجل نے ہم پر خود کو قتل کرنا اور گھر بار چھوڑ نا فرض کیا تھا ہم اس کو بجالائے تھے۔ اس پر حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اگر اللہ عزوجل ہم پر فرض کرتا تو ہم بھی ضرور بجالاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر طبری النساء تحت الایۃ: ۶۶ ۴ / ۱۶۳) کہ یہ کہنا تو اسان ہے لیکن اگر واقعی ایسا حکم دیدیا جاتا تو ایک بڑی تعداد اس حکم پر عمل نہ کرتی۔ اس میں بطور خاص منافقین یا نئے نئے مسلمان ہونے والے داخل ہوں گے جیسے منافقین اکثر جہاد سے فرار کی راہ ہی اختیار کرتے تھے اور نئے نئے مسلمان ہونے والے بھی کئی جنگوں میں ثابت قدم نہ رہ سکے۔ جہاں تک مخلصین یعنی جلیل القدر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کا تعلق ہے تو کتنے ہی صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم ایسے ہیں جنہوں نے مختلف جنگوں میں خود کو سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اگے کھڑا کردیا اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کردیں۔ مزید فرمایا کہ اگر تمہیں خود کو قتل کرنے یا اپنے گھروں سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا تو تم میں سے تھوڑے لوگ ہی کرتے لیکن اگر وہ ہر اس حکم پر عمل کریں جو انہیں دیا جائے خواہ خود کو جان سے ماردینے کا ہو یا گھروں سے نکل جانے کا بہرصورت یہ ان کیلئے بہت بہتر ہوتا اور ایمان پر ثابت قدمی کا ذریعہ ہوتا اور اس پر ہم انہیں عظیم اجروثواب عطا فرماتے اور انہیں صراط مستقیم کی اعلی درجے کی ہدایت عطا فرماتے۔