Surah Ghafir Ayat 18 (40:18)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ۬ؕ-مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُﭤ 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہیں قریب آنے والی آفت کے دن سے ڈراؤ،جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے اس حال میں کہ غم میں بھرے ہوں گے ۔ ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اُنہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے۔
Tafseer (Urdu)
{و انذرهم یوم الازفة: اور انہیں قریب آنے والی افت کے دن سے ڈراو۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کفار مکہ کو قیامت کے دن سے ڈرائیں جس کی ہولناکی کا یہ حال ہے کہ اس دن دل گلوں کے پاس آجائیں گے اور خوف کی شدت کی وجہ سے نہ ہی باہر نکل سکیں گے تاکہ مر کر کچھ راحت پا لیں اور نہ ہی اندر اپنی جگہ واپس جاسکیں گے تاکہ انہیں راحت نصیب ہو اور لوگوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ غم میں بھرے ہوں گے اور اس دن نہ تو کافروں کاکوئی دوست ہوگااورنہ ہی کوئی سفارش کرنے والاکہ جس کی سفارش سے یہ لوگ عذاب سے نجات پاسکیں۔(مدارک غافر تحت الایۃ: ۱۸ ص۱۰۵۵ روح البیان المومن تحت الایۃ: ۱۸ ۸ / ۱۶۹-۱۷۰ ملتقطا) قیامت کے دن مسلمانوں کے دوست اور شفاعت کرنے والے ہوں گے ـ: یاد رہے کہ اس ایت میں ظالموں سے کفار مراد ہیں گناہگار مسلمان اس ایت میں بیان کی گئی وعید میں داخل نہیں جیساکہ امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :یہاں ایت میں ظالموں سے مراد کفار ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ ایت ان کافروں کی سرزنش کے لئے ائی ہے جو اللہ تعالی کی ایتوں میں جھگڑا کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ یہ ایت کافروں کے ساتھ خاص ہو۔ (تفسیرکبیر المومن تحت الایۃ: ۱۸ ۹ / ۵۰۴) اورعلامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اس ایت میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ کافروں کے حق میں کوئی شفاعت نہیں کیونکہ یہ ایت کافروں کی مذمت میں ائی ہے۔مزید فرماتے ہیں : (اس سے) ثابت ہو اکہ گناہگار مسلمانوں کے لئے قیامت کے دن دوست بھی ہوں گے شفاعت کرنے والے بھی ہوں گے اور ان کی شفاعت قبول بھی کی جائے گی اور شفاعت کرنے والے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تمام انبیاء اور مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام مقرب اولیا ء کرام رحمۃاللہ تعالی علیہم اور تمام فرشتے ہوں گے۔ (روح البیان المومن تحت الایۃ: ۱۸ ۸ / ۱۷۰)