Surah Ghafir Ayat 25 (40:25)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْؕ-وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ 25
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لایا تو انہوں نے کہا: اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو اور کافروں کا مکروفریب تو گمراہی میں ہی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب وہ اُن پر ہمارے پاس سے حق لایا بولے جو اس پر ایمان لائے اُن کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا ۔
Tafseer (Urdu)
{فلما جآءهم بالحق من عندنا: پھر جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لایا۔} یعنی جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نبوت کے منصب پر فائز ہو کر اللہ تعالی کا پیغام لائے اور کچھ لوگ ان پر ایمان لے ائے تو فرعون اور اس کی قوم کے لوگ کہنے لگے :جولوگ ا س پر ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردوتاکہ ان کی تعداد اور قوت نہ بڑھ جائے جو کہ بعد میں سلطنت کے زوال کا سبب بن سکتی ہے اور چونکہ ان کی عورتوں سے ایسا کوئی اندیشہ نہیں اور گھروں میں کام کاج کے لئے ان کی ضرورت بھی ہے اس لئے انہیں زندہ رکھو اور یوں دوسرے لوگ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کرنے سے بھی باز آ جائیں گے۔ فرعون اور ا س کی قوم نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے غلبے کا خطرہ محسوس کر کے اس سے بچنے کی یہ تدبیر کی لیکن یہ کچھ بھی کار آمد ثابت نہ ہوئی اور ان کا داو بالکل نکما اور بے کار رہا ۔پہلے بھی فرعونیوں نے فرعون کے حکم سے ہزار ہا قتل کئے مگر اللہ تعالی کی قضا ہو کر رہی اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو پروردگار عالم نے فرعون کے گھر بار میں پالا اسی سے خدمتیں کرائیں اور جیسے فرعونیوں کا وہ داو بے کار گیا ایسے ہی اب ایمان والوں کو روکنے کے لئے پھر دوبارہ قتل شروع کرنا بیکار جائے گا۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے دین کا رواج اللہ تعالی کو منظور ہے تو اسے کون روک سکتا ہے ۔(تفسیرکبیر المومن تحت الایۃ : ۲۵ ۹ / ۵۰۶ خازن حم المومن تحت الایۃ : ۲۵ ۴ / ۶۹-۷۰ مدارک غافر تحت الایۃ: ۲۵ ص۱۰۵۶ ملتقطا)