Surah Ghafir Ayat 36 (40:36)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور فرعون نے کہا: اے ہامان !میرے لیے اونچا محل بنا شاید میں راستوں تک پہنچ جاؤں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور فرعون بولا اے ہامان میرے لیے اونچا محل بنا شاید میں پہنچ جاؤں راستوں تک۔
Tafseer (Urdu)
{و قال فرعون: اور فرعون نے کہا:} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون نے جب دیکھا کہ یہ شخص توایسی گفتگوکررہاہے جس کی وجہ سے لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہورہے ہیں اورلوگ اس کی بات کو درست سمجھ رہے ہیں تواس نے موضوع ہی تبدیل کردیااورلوگوں کو مطمئن کرنے کیلئے مکاری اور چالبازی کے طور پر اپنے وزیر ہامان کوکہنے لگاکہ میرے لیے اسمان کے راستوں تک ایک اونچامحل بناؤ میں اس پر چڑھ کر دیکھوں گا شاید میں اسمان پر جانے والے راستوں تک پہنچ جاوں اور وہاں جا کر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے خداکو جھانک کر دیکھوں میرے گمان کے مطابق میرے علاوہ کسی اور خداکے وجود کا دعوی کرنے میں موسی علیہ الصلوۃ والسلام جھوٹے ہیں۔ یہ بات بھی فرعون نے اپنی قوم کو فریب دینے کے لئے کہی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ برحق معبود صرف اللہ تعالی ہے اور فرعون اپنے آپ کو فریب کاری کے لئے معبود ٹھہرارہا ہے ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ اسی طرح فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام یعنی اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا اور اس کے رسول کو جھٹلانا خوش نما بنادیا گیا اور شیطانوں نے وسوسے ڈال کر اس کی برائیاں اس کی نظر میں بھلی کر دکھائیں اور وہ ہدایت کے راستے سے روک دیاگیا اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی نشانیوں کے مقابلے میں فرعون کے مکرو فریب نقصان اورہلاکت کا شکار ہوئے اور وہ اپنے کسی داو میں کامیاب نہ ہو سکا۔(خازن حم المومن تحت الایۃ: ۳۶-۳۷ ۴ / ۷۲ جلالین غافر تحت الایۃ: ۳۶-۳۷ ص۳۹۳ ملتقطا) نوٹ : ہامان کو محل بنانے کا حکم دینے والا واقعہ سورہ قصص کی ایت نمبر38میں بھی گزر چکاہے۔