Surah Fussilat Ayat 17 (41:17)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ جو ثمود تھے تو ہم نے ان کی رہنمائی کی تو انہوں نے ہدایت کی بجائے اندھے پن کو پسند کیا تو ان کے اعمال کے سبب انہیں ذلت کے عذاب کی کڑ ک نے آ لیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور رہے ثمود انھیں ہم نے راہ دکھائی تو انھوں نے سوجھنے پر اندھے ہونے کو پسند کیا تو انھیں ذلت کے عذاب کی کڑ ک نے آ لیا سزا اُن کے کئے کی۔
Tafseer (Urdu)
{و اما ثمود فهدینهم: اور وہ جو ثمود تھے تو ہم نے ان کی رہنمائی کی۔} اس سے پہلے قوم ثمود کا اجمالی تذکرہ ہوا اور اب یہاں سے ان کی عملی حالت اور انجام کی کچھ تفصیل بیان کی جا رہی ہے چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک قوم ثمود کا معاملہ ہے تو ہم نے ان کی رہنمائی کی اور نیکی اور بدی کے طریقے ان پر ظاہر فرمائے لیکن انہوں نے ہدایت کی بجائے گمراہی کے اندھے پن کو پسند کیا اور ایمان کے مقابلے میں کفر اختیار کیا تو ان کے شرک نبی کو جھٹلانے اور گناہوں کی وجہ سے انہیں ذلیل کر دینے والے عذاب کی کڑ ک نے آ لیااوروہ ہولناک آواز کے عذاب سے ہلاک کر دئیے گئے اور ہم نے کڑک کے اس ذلیل کر دینے والے عذاب سے ان لوگوں کو بچا لیا جو حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے اوروہ شرک اور خبیث اعمال کرنے سے ڈرتے تھے۔( خازن فصلت تحت الایۃ: ۱۷-۱۸ ۴ / ۸۳ مدارک فصلت تحت الایۃ: ۱۷-۱۸ ص۱۰۷۲ ملتقطا) حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم پر انے والے عذاب کی 3کیفیات: قران مجید میں حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم پر انے والے عذاب کو بیان کرتے ہوئے ایک ایت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: ’’فاخذتهم الرجفة فاصبحوا فی دارهم جثمین‘‘(اعراف:۷۸) ترجمہ کنزالعرفان: تو انہیں زلزلے نے پکڑ لیا تو وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ اور دوسری ایت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ’’و اخذ الذین ظلموا الصیحة فاصبحوا فی دیارهم جثمین‘‘(ہود:۶۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور ظالموں کو چنگھاڑ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔ اور تیسری ایت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: ’’فاخذتهم صعقة العذاب الهون بما كانوا یكسبون‘‘(حم السجدہ:۱۷) ترجمہ کنزالعرفان: تو ان کے اعمال کے سبب انہیں ذلت کے عذاب کی کڑ ک نے آ لیا۔ ان تینوں ایات میں باہم کوئی تعارض نہیں کیونکہ ان میں عذاب کی جدا جدا کیفیات بیان ہوئی ہیں یعنی تینوں اسباب ہی وقوع پذیر ہوئےلہذا قوم ثمود کی ہلاکت کو ان میں کسی کی طرف بھی منسوب کیا جا سکتا ہے۔