Surah Fussilat Ayat 7 (41:7)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{الذین لا یؤتون الزكوة: وہ جو زکوۃ نہیں دیتے۔} ایت کے اس حصے کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ان میں سے تین قول درج ذیل ہیں ۔ (1)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اور جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ ’’یہاں زکوۃ سے مراد (اس کا حقیقی معنی نہیں بلکہ اس سے مراد) توحید کا معتقد ہونا اور ’’لا الـہ الا اللہ‘‘ کہنا ہے۔ اس صورت میں ایت کے معنی یہ ہوں گے کہ مشرکین وہ لوگ ہیں جو توحید کا اقرار کرکے اپنے نفسوں کو شرک سے باز نہیں رکھتے ۔ (2)…حضرت حسن اور حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہما کا قول یہ ہے کہ یہاں زکوۃ نہ دینے سے مراد یہ ہے کہ مشرکین زکوۃ کے فرض ہونے پر ایمان نہیں لاتے اور ا س کا اقرار نہیں کرتے ۔ (3)…حضرت مجاہد اور حضرت ربیع رحمۃاللہ تعالی علیہماکا قول یہ ہے کہ (یہاں زکوۃ کا اصطلاحی معنی مراد نہیں بلکہ) زکوۃ سے مراد اپنے اعمال کا تزکیہ کرنا (اور ایمان قبول کر کے انہیں شرک کی نجاست سے پاک کرنا) ہے۔(البحر المحیط فصلت تحت الایۃ: ۷ ۷ / ۴۶۴) نوٹ: اس ایت کی تفسیر میں ان تین کے علاوہ مفسرین کے اور بھی اقوال ہیں ۔ امام عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ’’ یہاں ایت میں زکوۃ ادا نہ کرنے کو اخرت کے انکار کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو مال بہت پیارا ہوتا ہے تو جب وہ مال کو راہ خدا میں خرچ کرے گا تو یہ اس کی استقامت استقلال صدق اور نیت کے اخلاص کی مضبوط دلیل ہو گی۔نیزاس ایت میں ضمنی طور پر ان مسلمانوں کو بھی خوف دلایا گیا ہے جو زکوۃ ادا نہیں کرتے تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ زکوۃ نہ دینا ایسا برا فعل ہے کہ اسے قرآن کریم میں مشرکین کے اوصاف میں ذکر کیا گیا ہے۔(مدارک فصلت تحت الایۃ: ۷ ص۱۰۶۹ ملخصا) {و هم بالاخرة هم كفرون: اور وہ آخرت کے منکر ہیں ۔} ایت کے اس حصے میں مشرکوں کاایک اورجرم بیان کیا گیا کہ وہ آخرت کے منکر ہیں کہ مرنے کے بعد اٹھنے اوراعمال کی جزا ملنے کے قائل نہیں ۔(خازن فصلت تحت الایۃ: ۷ ۴ / ۸۰)