Surah Ash Shura Ayat 22 (42:22)
The Consultation · Juz 25 · Makki
تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِۚ- لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ- ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنے کمائے ہوئے اعمال سے ڈر رہے ہوں گے اوران کی کمائیاں ان پر پڑ کر رہیں گی اور ایمان لانے والے اور اچھے اعمال کرنے والے جنتوں کے پھولوں سے بھرے ہوئے باغات میں ہوں گے۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ تمام چیزیں ہوں گی جو وہ چاہیں گے، یہی بڑا فضل ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں سے سہمے ہوئے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رہیں گی اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ جنت کی پھلواریوں میں ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہیں جو چاہیں یہی بڑا فضل ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ترى الظلمین: تم ظالموں کو دیکھو گے۔} اس ایت میں قیامت کے دن عذاب کے حق داروں اور ثواب پانے والوں کا حال بیان کیا گیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ تم قیامت کے دن ظالموں کو اس حال میں دیکھو گے کہ وہ اس اندیشے سے اپنے کفر اور خبیث اعمال سے ڈر رہے ہوں گے کہ اب انہیں ان اعمال کی سزا ملنے والی ہے۔یہ چاہے ڈریں یا نہ ڈریں ان کے اعمال کا وبال ان پر ضرور پڑ کر رہے گا اور یہ اس سے کسی طرح بچ نہیں سکتے اور ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ جنتوں کے نعمتوں سے بھرے ہوئے باغات میں ہوں گے کیونکہ وہ جنت کے سب سے زیادہ پاکیزہ مقام ہیں ۔ ان کے لیے ان کے رب عزوجل کے پاس وہ تمام چیزیں ہوں گی جو وہ چاہیں گے اورتھوڑے عمل پریہی بڑا فضل ہے۔ اس ایت سے معلوم ہوا کہ فاسق و فاجر مسلمان بھی(اپنے اعمال کی سزا پانے کے بعد یا اللہ تعالی کی طرف سے سزا کے بغیر ہی بخش دئیے جانے کے بعد ) جنت میں جائیں گے البتہ وہاں ان کے مقام میں فرق ہو گا کہ اچھے اعمال کرنے والے مسلمان پھولوں سے بھرے ہوئے باغات میں ہوں گے اور ان کے علاوہ مسلمان جنت کے دیگر حصوں میں ہوں گے۔(تفسیرکبیر الشوری تحت الایۃ: ۲۲ ۹ / ۵۹۳ مدارک الشوری تحت الایۃ: ۲۲ ص۱۰۸۶ ملتقطا)