Surah Ash Shura Ayat 21 (42:21)
The Consultation · Juz 25 · Makki
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُؕ-وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْؕ-وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبلکہ کافروں کے کچھ ساتھی ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا وہ راستہ مقرر کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی اور اگر فیصلہ کرنے کی بات (طے)نہ ہوتی تو (یہیں ) ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیا ان کے لیے کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے وہ دین نکال دیا ہے کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا تو یہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ام لهم شركؤا: یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں۔} دنیا اور اخرت کے اعمال کے بارے میں ایک قانون بیان کرنے کے بعد اس ایت میں اللہ تعالی نے وہ چیز بیان فرمائی ہے جو بد بختی اور گمراہی کی بنیاد ہے ۔اس ایت کا معنی یہ ہے کہ کفار مکہ اس دین کو قبول نہیں کرتے جو اللہ تعالی نے ان کے لئے مقرر فرمایا ہے بلکہ کافروں کے کچھ ساتھی ہیں شیاطین وغیرہ جنہوں نے ان کے لیے کفریہ دینوں میں سے وہ دین انہیں پیش کیا ہے جو شرک اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کے انکار پر مشتمل ہے اور یہ دین اللہ تعالی کے دین کے خلاف ہے اور کفار اسی دین کو قبول کئے ہوئے ہیں جس کا انجام تو یہ ہے کہ اگر فیصلہ کرنے کی بات طے نہ ہوتی اور جزا کے لئے قیامت کا دن معین نہ فرمادیا گیا ہوتا تو یہیں ایمان والوں اور کفار میں فیصلہ کردیا جاتا اور دنیا ہی میں جھٹلانے والوں کو عذاب میں گرفتار کردیا جاتا اور بیشک اخرت میں ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یاد رہے کہ اس ایت میں ظالموں سے مراد کافر ہیں۔(تفسیر کبیر الشوری تحت الایۃ : ۲۱ ۹ / ۵۹۲ جلالین الشوری تحت الایۃ: ۲۱ ص۴۰۳ مدارک الشوری تحت الایۃ: ۲۱ ص۱۰۸۶ خازن الشوری تحت الایۃ: ۲۱ ۴ / ۹۴ ملتقطا)