Surah Ash Shura Ayat 20 (42:20)
The Consultation · Juz 25 · Makki
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ 20
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے توہم اسے اس میں سے کچھ دیدیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اُس کا کچھ حصہ نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{من كان یرید حرث الاخرة: جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے۔} اس ایت میں اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کی رضا کے لئے عمل کرنے والوں اور ان لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو اپنے اعمال کے ذریعے دنیوی وجاہت اور سا زو سامان کے خواہش مندہیں ۔ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جسے اپنی نمازروزہ اور دیگر اعمال سے آخرت کا نفع مقصود ہو تو ہم اسے نیکیوں کی توفیق دے کر اس کے لئے نیک اعمال اور اطاعت گزاری کی راہیں اسان کرکے اور اس کی نیکیوں کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ جتنا ہم چاہیں بڑھا کر ا س کے اخروی نفع میں اضافہ کر دیتے ہیں اور جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو ہم اسے دنیامیں سے اتنا دے دیتے ہیں جتنا ہم نے دنیا میں اس کے لئے مقدر کیا ہے اور آخرت کی نعمتوں میں اس کا کچھ حصہ نہیں کیونکہ اس نے آخرت کے لئے عمل کیا ہی نہیں۔(جلالین مع صاویالشوری تحت الایۃ: ۲۰ ۵ / ۱۸۶۹-۱۸۷۰ خازن الشوری تحت الایۃ: ۲۰ ۴ / ۹۴ مدارک الشوری تحت الایۃ: ۲۰ ص۱۰۸۶ ملتقطا) نیک اعمال سے اللہ تعالی کی رضاکے طلبگار اور دنیا کے طلبگار کا حال: اس ایت سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ تعالی کو راضی کرنے والے عمل کرے اور ان اعمال سے صرف اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے کی نیت کرے تو اسے اللہ تعالی دنیا میں بھی نوازتا ہے اور اخرت میں بھی ا س پر اپنے لطف و کرم کی بارش فرمائے گا اور وہ شخص جو اپنی نماز روزہحج زکوۃ صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال سے اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کی نیت نہ کرے بلکہ ان اعمال کے ذریعے دنیا میں مال و دولتعزت و شہرت اور اپنی واہ واہ چاہے تو دنیا میں اسے صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے نصیب میں لکھا ہے اور اخرت میں ان اعمال کے ثواب سے اسے محروم کر دیا جائے گا ۔اسی سے متعلق یہاں تین احادیث بھی ملاحظہ ہوں (1)… حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص(صرف) دنیا کی فکر میں رہتا ہے تو اللہ تعالی اس کے معاملے کو پراگندہ کر دیتا ہے اور ا س کی تنگ دستی کو اس کی انکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اسے دنیا سے صرف اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا ا س کے لئے (پہلے سے) لکھ دیا گیا ہے اور جو شخص اخرت کا قصد کرتا ہے تو اللہ تعالی ا س کے معاملے کو اکٹھا کر دیتا ہے اور ا س کی مالداری کو اس کے دل میں رکھ دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس خاک الود ہو کر اتی ہے۔( ابن ماجہ کتاب الزہد باب الہم بالدنیا ۴ / ۴۲۴ الحدیث: ۴۱۰۵) (2)… حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنی تمام فکروں کو صرف ایک فکر بنا دیا اور وہ اخرت کی فکر ہے تو اللہ تعالی اسے اس کی دنیا کی فکر کے لئے کافی ہے اور جس کی فکریں دنیا کے احوال میں مشغول رہیں تو اللہ تعالی کو اس کی پرواہ نہیں ہو گی کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو رہا ہے۔( ابن ماجہ کتاب الزہد باب الہم بالدنیا ۴ / ۴۲۵ الحدیث: ۴۱۰۶) (3)…حضرت جارود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اخرت کے عمل کے بدلے دنیا طلب کی تو اس کا چہرہ بگاڑ دیاجائے گااس کا ذکر مٹا دیا جائے گا اور جہنم میں اس کا نام لکھ دیا جائے گا۔(معجم الکبیر الجارود بن عمرو بن المعلی۔۔۔ الخ ۲ / ۲۶۸ الحدیث: ۲۱۲۸) اللہ تعالی ہمیں اپنی رضا حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔