Surah Ash Shura Ayat 19 (42:19)
The Consultation · Juz 25 · Makki
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ اپنے بندوں پر لطف فرمانے والا ہے،جسے چاہتا ہے روزی دیتا ہے اور وہی قوت والا، عزت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے جسے چاہے روزی دیتا ہے اور وہی قوت و عزت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الله لطیف بعباده: اللہ اپنے بندوں پر لطف فرمانے والا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر بے شمار احسانات کرتا ہے اور اس کے احسانات کے دائرے میں نیک اور بد سبھی داخل ہیں حتی کہ بندے اللہ تعالی کی نافرمانی اور گناہوں میں مشغول رہتے ہیں اس کے باوجود وہ انہیں بھوک سے ہلاک نہیں کرتا۔اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق روزی دیتا ہے اور وسعت عیش عطا فرماتا ہے اور اس میں مومن اور کافر سبھی داخل ہیں۔(خازن الشوری تحت الایۃ: ۱۹ ۴ / ۹۳-۹۴) رزق کی وسعت اور تنگی حکمت کے مطابق ہے: اس ایت سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالی اپنے بعض بندوں کو زیادہ اور بعض کو کم رزق عطا فرماتا ہے اور اس وسعت اور تنگی میں اللہ تعالی کی بے شمار حکمتیں ہیں۔ اسی سورت میں ایک اور مقام پر اس کی ایک حکمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’و لو بسط الله الرزق لعباده لبغوا فی الارض و لكن ینزل بقدر ما یشآء-انه بعباده خبیر بصیر‘‘(شوری:۲۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کیلئے رزق وسیع کردیتا تو ضرور وہ زمین میں فساد پھیلاتے لیکن اللہ اندازہ سے جتنا چاہتا ہے اتارتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں سے خبردار (ہے انہیں ) دیکھ رہاہے۔ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی فرماتا ہے میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ مالداری ان کے ایمان کی قوت کا باعث ہے اگر میں انہیں فقیر محتاج کردوں تو ان کے عقیدے فاسد ہوجائیں اور بعض بندے ایسے ہیں کہ تنگی اور محتاجی ان کے ایمان کی قوت کا باعث ہے اگر میں انہیں غنی مالدار کردوں تو ان کے عقیدے خراب ہوجائیں۔( تاریخ بغداد حرف الالف من اباء الابراہیمین ۳۰۴۴-ابراہیم بن احمد بن الحسن۔۔۔ الخ ۶ / ۱۴-۱۵) لہذا جسے رزق میں تنگی کا سامنا ہے وہ یہ نہ سوچے کہ فلاں شخص کو اتنا مال ملا ہےفلاں کو اتنی دولت عطا ہوئی ہے جبکہ میں رزق کے معاملے میں تنگیوں کا سامنا کر رہا ہوں بلکہ اسے اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ رزق تھوڑا ملنے میں میری ہی بھلائی ہو گی کیونکہ جس چیز میں میری بھلائی ہے اسے میرا رب عزوجل بہتر جانتا ہے اور چونکہ رزق دینے والا بھی وہی ہے ا س لئے اس کی بارگاہ سے مجھے دوسروں کے مقابلے میں کم رزق ملنے میں یقینا میری دنیا اور اخرت کا بھلا ہو گا اور اسی میں میرے ایمان کی قیمتی ترین دولت کی حفاظت کا سامان ہو گا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ دولت ملنے کے بعد میرا دل بدل جائے اور میںاللہ تعالی کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو کر اپنے ایمان کی دولت ضائع کر بیٹھوں اور قیامت کے دن جہنم کے دردناک عذاب میں ہمیشہ کے لئے مبتلا ہو جاوں ۔ ایسا کرنے سے ان شاء اللہ عزوجل پریشان دماغ کو راحت اور بے چین دل کو سکون نصیب ہو گا۔