Surah Ash Shura Ayat 37 (42:37)
The Consultation · Juz 25 · Makki
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَ 37
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور(ان کیلئے) جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں اور جب انہیں غصہ آئے تومعاف کردیتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین یجتنبون كبىر الاثم و الفواحش: اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں ۔} یعنی اجر وثواب ان کیلئے بھی ہے جو کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں ۔ کبیرہ گناہ وہ ہے جس کے کرنے پر دنیا میں حد جاری ہو جیسے قتل زنا اور چوری وغیرہ یا اس پر اخرت میں عذاب کی وعید ہو جیسے غیبتچغل خوریخود پسندی اور ریا کاری وغیرہ ۔بے حیائی کے کاموں سے وہ تمام کام اور باتیں مراد ہیں جو معیوب اور قبیح ہوں۔(روح البیان الشوری تحت الایۃ: ۳۷ ۸ / ۳۲۸ خازن الشوری تحت الایۃ: ۳۷ ۴ / ۹۸ ملخصا) کبیرہ گناہوں سے بچنے والے کا ثواب: اس ایت میں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچنے والوں کے لئے قیامت کے دن اجر و ثواب کی بشارت سنائی گئی ہے۔کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: ’’ان تجتنبوا كبآىر ما تنهون عنه نكفر عنكم سیاتكم و ندخلكم مدخلا كریما‘‘(النساء:۳۱) ترجمہ کنزالعرفان: اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے دوسرے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔ اورحضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جس نے اللہ تعالی کی عبادت کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایانماز قائم کیزکوۃ ادا کی رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے بچتا رہا تو ا س کے لئے جنت ہے۔ایک شخص نے عرض کی:( یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کبیرہ گناہ کیا ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرناکسی مسلمان کو (ناحق) قتل کرنا اور کفار سے جنگ کے دن میدان سے فرار ہونا۔(مسند امام احمد مسند الانصار حدیث ابی ایوب الانصاری رضی اللہ تعالی عنہ ۹ / ۱۳۲ الحدیث: ۲۳۵۶۵) اور بے حیائی کے کاموں سے بچنے والوں کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ الذین یجتنبون كبىر الاثم و الفواحش الا اللمم-ان ربك واسع المغفرة‘‘(النجم:۳۲) ترجمہ کنزالعرفان: وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے۔ اور حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو مجھے ا س چیز کی ضمانت دے جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے (یعنی شرمگاہ) اور جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے (یعنی زبان)تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔( بخاری کتاب المحاربین من اہل الکفر والردۃ باب فضل من ترک الفواحش ۴ / ۳۳۷ الحدیث: ۶۸۰۷) اللہ تعالی ہمیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ نوٹ:کبیرہ گناہوں سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے سورہ نساء ایت نمبر31کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں اور تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’الزواجر لاقتراف الکبائر‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔([1]) {و اذا ما غضبوا هم یغفرون: اور جب انہیں غصہ آئے تومعاف کردیتے ہیں ۔} اس ایت میں کسی پر غصہ انے کی صورت میں معاف کر دینے والے کو بھی اجر و ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت کا معنی یہ ہے کہ جب غصہ ائے تو اس وقت در گزر کرنا اور بردباری کا مظاہرہ کرنا اخلاقی اچھائیوں میں سے ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ در گزر کرنے سے کسی واجب میں خلل واقع نہ ہو اور اگر کسی واجب میں خلل واقع ہو تو غضب کا اظہار کرنا ضروری ہے جیسے کوئی اللہ تعالی کے حرام کردہ کسی کام کو کرے تو اس وقت در گزر سے کام نہیں لیا جائے گا بلکہ اس پر غصہ کرنا واجب ہے۔(مراد یہ کہ اس وقت اللہ تعالی کی نافرمانی پردل میں ناراضگی کا انا ضروری ہے یہ ضروری نہیں کہ گناہ کے مرتکب پر اظہار بھی کیا جائے ۔ اس کا دارومدار موقع محل کی مناسبت پر ہے۔)( صاوی الشوری تحت الایۃ: ۳۷ ۵ / ۱۸۷۸) غصہ انے پر معاف کر دینے کی فضیلت: غصہ انے پر معاف کر دینے کی فضیلت بکثرت احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جو شخص اپنے غصے کو نافذ کرنے پر قادر ہونے کے باوجود غصہ پی جائے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی اسے اختیار دے گا کہ حور عین میں سے جو حور وہ چاہے لے لے۔( ابو داود کتاب الادب باب من کظم غیظا ۴ / ۳۲۵ الحدیث: ۴۷۷۷) اورحضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے غصہ ضبط کر کے ا س کا گھونٹ پیا یا جس نے مصیبت کے وقت صبر کا گھونٹ پیا اللہ تعالی کو اس گھونٹ سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں اور اللہ تعالی کے خوف سے جس شخص کی انکھ نے ا نسو کا قطرہ گرا یا اور خون کا وہ قطرہ جو اللہ تعالی کی راہ میں گرا ا س سے زیادہ اللہ تعالی کو کوئی قطرہ پسند نہیں ۔( کتاب الجامع فی اخر المصنف باب الغضب والغیظ وما جاء فیہ۱۰ / ۱۹۵ الحدیث: ۲۰۴۵۷) غصہ انے کا بنیادی سبب اور غصے کے 3علاجـ: غصہ انے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جب انسان کسی اور سے کوئی بات کرتا یا اسے کوئی کام کرنے کا کہتا ہے اور وہ بات نہیں مانتا یا وہ کام نہیں کرتا تو غصہ اجاتا ہےایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کر دے یا ایسے اسباب اختیار کرے جن سے غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور دل و دماغ کو تسکین حاصل ہوترغیب کے لئے یہاں غصہ ٹھنڈا کرنے کے 3 طریقے ملاحظہ ہوں (1)…حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو غصہ ائے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر ا س کا غصہ چلا جائے تو ٹھیک ورنہ اسے چاہئے کہ لیٹ جائے۔(ابو داود کتاب الادب باب ما یقال عند الغضب ۴ / ۳۲۷ الحدیث: ۴۷۸۳) (2)…حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو غصہ ائے تو اسے چاہئے کہ خاموش ہو جائے۔(مسند امام احمد مسند عبد اللہ بن العباس۔۔۔ الخ ۱ / ۵۱۵ الحدیث: ۲۱۳۶) علامہ ابن رجب حنبلی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں’’یہ غصے کا بہت بڑا علاج ہے کیونکہ غصہ کرنے والے سے غصے کی حالت میں ایسی بات صادر ہو جاتی ہے جس پر اسے غصہ ختم ہونے کے بعد بہت زیادہ ندامت اٹھانی پڑتی ہے جیسے غصے کی حالت میں گالی وغیرہ دے دینا جس کا نقصان بہت زیادہ ہے تو جب وہ خاموش ہو جائے گا تو اسے اس کے کسی شر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔( جامع العلوم و الحکم الحدیث السادس عشر ص۱۸۴) (3)…حضرت عطیہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان اگ سے پیدا کیاگیا ہے اور اگ کو پانی کے ذریعے ہی بجھایا جا سکتا ہے لہذاجب تم میں سے کسی کو غصہ ائے تو اسے وضو کر لینا چاہئے۔(ابو داود کتاب الادب باب ما یقال عند الغضب ۴ / ۳۲۷ الحدیث: ۴۷۸۴) اللہ تعالی ہمیں غصہ کرنے سے بچنے اور غصہ اجانے کی صورت میں معاف کردینے کی توفیق عطا فرمائے امین۔([2]) [1] ۔۔۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ بنام ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال‘‘ مکتبۃ المدینہ سے شائع ہو چکا ہے وہاں سے ہدیۃ حاصل کر کے اس کا مطالعہ فرمائیں۔ [2] ۔۔۔ غصہ اور عفوو درگزرسے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے ان رسائل’’غصے کا علاج‘‘ اور ’’عفوو درگزر کے فضائل‘‘کا مطالعہ فرمائیں۔