Surah Ash Shura Ayat 38 (42:38)
The Consultation · Juz 25 · Makki
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ۪-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ۪-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور (ان کے لئے) جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانااور نماز قائم رکھی اور ان کا کام ان کے باہمی مشورے سے (ہوتا) ہے اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم رکھی اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے اور ہمارے دئیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین استجابوا لربهم: اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا۔} یعنی اجر و ثواب ان لوگوں کے لئے بھی ہے جنہوں نے اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار اور اس کی عبادت کرکے اپنے رب کا حکم مانااورپابندی کے ساتھ نماز پڑھتے رہے اور جب انہیں کوئی کام درپیش ہوتو وہ ان کے باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور وہ ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زبان اقدس سے اپنے رب عزوجل کی دعوت قبول کرکے ایمان اور طاعت کو اختیار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہجرت سے پہلے ان پر بارہ نقیب مقرر فرمائے ان انصار کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمام شرائط و اداب کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور جب انہیں کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو پہلے اپس میں مشورہ کرتے ہیں پھر وہ کام سرانجام دیتے ہیں اس میں وہ جلد بازی اور اپنی من مرضی نہیں کرتے اور وہ ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔(جلالین مع صاویالشوریتحت الایۃ:۳۸ ۵ / ۱۸۷۸-۱۸۷۹روح البیانالشوریتحت الایۃ:۳۸۸ / ۳۳۱ملتقطا) نماز پڑھنے کی اہمیت: اس ایت میں انصار کا ایک وصف یہ بیان ہو اہے کہ وہ تمام شرائط و اداب کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں ۔ نماز کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس عمل کا حساب ہو گا وہ نماز ہےاگر یہ عمل صحیح ہوا تو کامیابی اور نجات ہے اور اگر یہ ٹھیک نہ ہوا تو وہ ناکام ہوا اور ا س نے نقصان اٹھایا۔اگر فرض نماز میں کچھ کمی رہ گئی تو اللہ تعالی فرمائے گا: ’’کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہےپھر اس سے فرض کی کمی پوری کی جائے گیپھر تمام اعمال کا یہی حال ہو گا۔(ترمذی ابواب الصلاۃ باب ما جاء ان اول یحاسب بہ العبد۔۔۔ الخ ۱ / ۴۲۱ الحدیث: ۴۱۳) مشورہ کرنے کی اہمیت: اور ایک وصف یہ بیان ہو اہے کہ وہ باہمی مشورے سے اپنے کام کرتے ہیں ۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بھی اجتہادی امور میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے مشورہ کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’و شاورهم فی الامر‘‘(ال عمران:۱۵۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔ اورتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعدصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم بھی دینی اور دنیوی اہم امور باہمی مشورے سے طے کیا کرتے تھے ۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارے حاکم اچھے لوگ ہوں تمہارے مالدار سخی لوگ اور تمہارے کام باہمی مشورے سے طے ہوں تو زمین کا ظاہر اس کے باطن سے تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور جب تمہارے حاکم شریر لوگ ہوں تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو اس وقت زمین کا پیٹ تمہارے لئے اس کے ظاہر سے زیادہ بہتر ہے۔(ترمذی کتاب الفتن ۷۸-باب ۴ / ۱۱۸ الحدیث: ۲۲۷۳) اورحضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :جو قوم مشورہ کرتی ہے وہ صحیح راہ پر پہنچتی ہے۔(مدارک الشوری تحت الایۃ: ۳۸ ص۱۰۹۰) صدقہ دینے کی اہمیت: اور ایک وصف یہ بیان ہوا کہ وہ اللہ تعالی کے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں ۔ اس سے مراد تمام قسم کے صدقات ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندہ جب صدقہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے تو وہ سائل کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ تعالی کے دست قدرت میں اجاتا ہے اور جو بندہ بلا ضرورت سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالی اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(معجم الکبیر وما اسند عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مقسم عن ابن عباس ۱۱ / ۳۲۰ الحدیث: ۱۲۱۵۰) اللہ تعالی ہمیں پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنےاپنے اہم کاموں میں صحیح مشورہ دینے والوں سے مشورہ کرنے اور صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔