Surah Ash Shura Ayat 40 (42:40)
The Consultation · Juz 25 · Makki
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَاۚ-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ 40
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنواراتو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ ظالموں کوپسند نہیں کرتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بُرائی کا بدلہ اُسی کی برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بے شک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو۔
Tafseer (Urdu)
{و جزؤا سیئة سیئة مثلها: اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے۔} اس کا معنی یہ ہے کہ بدلہ جرم کے برابر ہونا چاہیے اوراس میں زیادتی نہ ہو اور بدلے کو برائی سے صورۃ مشابہ ہونے کی وجہ سے مجازی طور پربرائی کہا جاتا ہے کیونکہ جس کو وہ بدلہ دیاجائے اسے برا معلوم ہوتا ہے اور بدلے کو برائی کے ساتھ تعبیر کرنے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اگرچہ بدلہ لینا جائز ہے لیکن معاف کر دینا اس سے بہتر ہے۔( مدارک الشوری تحت الایۃ: ۴۰ ص۱۰۹۱ خازن الشوری تحت الایۃ: ۴۰ ۴ / ۹۹ ملتقطا) {فمن عفا: تو جس نے معاف کیا۔} یعنی جس نے ظالم کو معاف کر دیا اور معافی کے ذریعے اپنے اور ظالم کے مابین معاملے کی اصلا ح کی تو اس کا اجر اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے۔بے شک اللہ تعالی ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو ظلم کی ابتداء کرتے ہیں یا بدلہ لینے میں حد سے تجاوز کرتے ہیں ۔( مدارک الشوری تحت الایۃ: ۴۰ ص۱۰۹۱) ظالم کو معاف کردینے کے فضائل: اس ایت سے معلوم ہوا کہ برائی کے برابر بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے لیکن بدلہ نہ لینا اور معاف کر دینا افضل ہے۔ ترغیب کے لئے یہاں ظالم کو معاف کر دینے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں (1)…نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ قیامت کے دن عرش کے درمیانی حصے سے ایک منادی اعلان کرے گا’’اے لوگو! سنوجس کا اجر اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے اسے چاہئے کہ وہ کھڑ اہو جائےتو اس شخص کے علاوہ اور کوئی کھڑا نہ ہو گا جس نے(دنیا میں ) اپنے بھائی کا جرم معاف کیا تھا۔(ابن عساکر ذکر من اسمہ ربیعۃ ۲۱۵۹-الربیع بن یونس بن محمد بن کیسان۔۔۔ الخ ۱۸ / ۸۷) (2)… حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لئے (جنت میں ) محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کئے جائیں تو اسے چاہئے کہ جو اس پر ظلم کرے اسے معاف کر دیا کرے جو اسے محروم کرے اسے عطا کیا کرے اور جو اس سے تعلق توڑے تو اس کے ساتھ صلہ رحمی کیا کرے۔(مستدرک کتاب التفسیر تفسیر سورۃ ال عمران شرح ایۃ: کنتم خیر امۃ۔۔۔ الخ ۳ / ۱۲ الحدیث: ۳۲۱۵) یاد رہے کہ ظالم سے بدلہ لینا ایک فطرتی تقاضا ہے اور شریعت نے ا س کی اجازت بھی دی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی نے تھپڑ مارا تو اسے دو تھپڑ مارے جائیں کسی نے سر پھاڑا تو اس کے سر کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی ادھیڑ کر رکھ دیاجائے کسی نے بازو توڑا تو اس کے بازو کو جسم سے ہی اتار دیا جائے کسی نے ٹانگ توڑی تو اس کی ٹانگ ہی کاٹ دی جائے کسی نے قتل کر دیا تو ا س کے پورے خاندان کو ہی موت کی نیند سلا دیا جائے بلکہ جتنا اس پر ظلم ہوا اتنا ہی بدلہ لینے کی اجازت ہے اس سے زیادہ بدلہ ہر گز نہیں لے سکتا۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’و كتبنا علیهم فیها ان النفس بالنفس-و العین بالعین و الانف بالانف و الاذن بالاذن و السن بالسن-و الجروح قصاص-فمن تصدق به فهو كفارة له-و من لم یحكم بما انزل الله فاولىك هم الظلمون‘‘(مائدہ:۴۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے تورات میں ان پرلازم کردیاتھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت (کا قصاص لیا جائے گا) اور تمام زخموں کا قصاص ہوگاپھر جو دل کی خوشی سے (خود کو) قصاص کے لئے پیش کردے تویہ اس کا کفارہ بن جائے گا اور جواس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ اس آیت میں اگرچہ یہود یوں پر قصاص کے احکام بیان ہوئے لیکن چونکہ ہمیں ان کے ترک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا اس لئے ہم پر بھی یہی احکام لازم ہیں لہذا بدلہ لینے میں اس کی حد سے ہر گز تجاوز نہ کیا جائے بلکہ کوشش یہی کی جائے کہ جس نے ظلم کیا اسے معاف کر دیا جائے تاکہ اخرت میں کثیر اجر و ثواب حاصل ہونیز جہاں بدلہ لینا بھی ہے وہاں بھی حاکم وقت کے ذریعے لیا جائے گا نہ یہ کہ خود ہی قاضی بن گئے اور خود ہی جلاد۔