Surah Ash Shura Ayat 43 (42:43)
The Consultation · Juz 25 · Makki
وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ 43
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک جس نے صبر کیااورمعاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و لمن صبر: اور بیشک جس نے صبر کیا۔} یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس تقاضا کرتاہے لہذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔ ظلم پر صبر کرنے کے فضائل: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اگر ظالم سے بدلہ نہ لینے میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو تو ظلم پرصبر کرلینا اور ظالم کو معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ظلم پر صبر کرنے سے متعلق ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: ’’و ان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به-و لىن صبرتم لهو خیر للصبرین‘‘(نحل:۱۲۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور اگر تم (کسی کو) سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ اورحضرت کبشہ انماری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’مظلوم جب ظلم پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی عزت بڑھا دیتا ہے۔(ترمذی کتاب الزہد باب ما جاء مثل الدنیا مثل اربعۃ نفر ۴ / ۱۴۵ الحدیث: ۲۳۳۲) اورحضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جب اللہ تعالی مخلوق کو جمع فرمائے گا تو ایک منادی ندا کرے گا:فضل والے کہاں ہیں تو کچھ لوگ کھڑے ہوں گے اور ان کی تعداد بہت کم ہو گی۔جب یہ جلدی سے جنت کی طرف بڑھیں گے تو فرشتے ان سے ملاقات کریں گے اور کہیں گے :ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم تیزی سے جنت کی طرف جا رہے ہوتم کون ہووہ جواب دیں گے: ہم فضل والے ہیں ۔فرشتے کہیں گے:تمہارا فضل کیا ہےوہ جواب دیں گے جب ہم پر ظلم کیا جاتا تھا تو ہم صبر کرتے تھے اور جب ہم سے برائی کا برتاو کیا جاتا تھا تو اسے برداشت کرتے تھے۔پھر ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاو اور اچھے عمل والوں کا ثواب کتنا اچھا ہے۔(الترغیب والترہیب کتاب الادب وغیرہ الترغیب فی الرفق والانا ۃ والحلم ۳ / ۲۸۱ الحدیث: ۱۸) اللہ تعالی ہمیں ظالموں کے ظلم اور شریروں کے شر سے محفوظ فرمائےاور ظلم ہونے کی صورت میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔