Surah Ash Shura Ayat 8 (42:8)
The Consultation · Juz 25 · Makki
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰـكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖؕ-وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاوراگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن اللہ اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور ظالموں کیلئے نہ کوئی دوست ہے اورنہ مددگار۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا لیکن اللہ اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار۔
Tafseer (Urdu)
{و لو شآء الله لجعلهم امة واحدة: اوراگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا۔} یعنی اگر اللہ تعالی چاہتا تو تمام لوگوں کو دنیا میں ایک ہی گروہ بنا دیتا کہ سب ہدایت یافتہ ہوتے یا سبھی گمراہ ہوتے لیکن اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنی جنت میں داخل فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے (اس کے مستحق ہونے کی وجہ سے) عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے اسی لئے اللہ تعالی نے یہ نہیں چاہا کہ سب کو ایک ہی گروہ بنا دے بلکہ انہیں دو گروہ بنایااور ان دوگروہوں میں جوکافروں کا گروہ ہے اس کا کوئی دوست نہیں جو ان سے عذاب دور کر سکے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہے جو ان سے عذاب روک سکے۔( روح البیان الشوری تحت الایۃ: ۸ ۸ / ۲۹۰ خازن الشوری تحت الایۃ: ۸ ۴ / ۹۱ ملتقطا) گناہگار مسلمانوں کے لئے قیامت کے دن مددگار ہوں گے: علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت میں ظالم سے مراد کفارہیں اور جو لوگ کفر کے علاوہ دیگر گناہوں میں مشغول ہو کر اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں تو ان کے لئے مددگارہوں گے جو ان سے عذاب دور کریں گے کیونکہ حدیث پاک میں ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میری شفاعت میری امت میں سے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہے۔( صاوی الشوری تحت الایۃ : ۸ ۵ / ۱۸۶۴ ملخصا ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ۔۔۔ الخ ۱۱-باب منہ ۴ / ۱۹۸ الحدیث: ۲۴۴۳)