Surah Az Zukhruf Ayat 12 (43:12)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جس نے تمام جوڑوں کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں کی سواریاں بنائیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جس نے سب جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں سے سواریاں بنائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و الذی خلق الازواج: اور جس نے تمام جوڑوں کو پیدا کیا۔} یعنی عزت و علم والا اللہ عزوجل وہی ہے جس نے مخلوق کی تمام اقسام کے جوڑے بنائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :’’اس سے مراد یہ ہے کہ تمام انواع کے جوڑے بنائے جیسے میٹھا اور نمکین سفید اور سیاہمذکر اور مونث وغیرہ۔( روح البیان الزخرف تحت الایۃ: ۱۲ ۸ / ۳۵۵) {و جعل لكم من الفلك و الانعام ما تركبون: اور تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں کی سواریاں بنائیں ۔} ایت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اور تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں کی سواریاں بنائیں تاکہ تم خشکی اور تری کے سفر میں کشتیوں کی پشت اور چوپایوں کی پیٹھوں پر سیدھے ہو کر بیٹھو پھر جب اس سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاو تو دل میں اپنے رب کا احسان یاد کرو اور اپنی زبان سے یوں کہو: وہ اللہ عزوجل ہر عیب سے پاک ہے جس نے اس سواری کو ہمارے قابو میں کردیا اور ہم اسے قابوکرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے اور بیشک ہم اخر کار اپنے رب عزوجل کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں ۔( خازنالزخرفتحت الایۃ:۱۲-۱۴۴ / ۱۰۲ جلالین مع صاویالزخرفتحت الایۃ:۱۲-۱۴ ۵ / ۱۸۸۸ ملتقطا) سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعائیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب سفر میں تشریف لے جاتے تو اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے وقت پہلے تین بار اللہ اکبر پڑھتے پھر یہ آیت پڑھتے ’’سبحن الذی سخر لنا هذا و ما كنا له مقرنین(۱۳) و انا الى ربنا لمنقلبون‘‘۔ (اور اس کے بعدیہ دعائیں پڑھتے)۔ ’’اللہم انا نسالک فی سفرنا ہذا البر والتقوی و من العمل ما ترضی اللہم ہون علینا سفرنا ہذا واطو عنا بعدہ اللہم انت الصاحب فی السفر و الخلیفۃ فی الاہل اللہم انی اعوذ بک من وعثاء السفر وکآبۃ المنظر وسو ء المنقلب فی المال والاہل‘‘اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو ان دعاوں کے ساتھ مزید یہ پڑھتے ’’آیبون تائبون عابدون لربنا حامدون‘‘۔(مسلم کتاب الحج باب ما یقول اذا رکب الی سفر الحج وغیرہ ص۷۰۰ الحدیث: ۴۲۵(۱۳۴۲)) اورحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ا رشاد فرمایا میری امت میں سے جو شخص کشتی میں سوار ہوتے وقت یہ پڑھ لے تو وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے گا: ’’بسم اللہ الملک و ما قدروا اللہ حق قدرہ و الارض جمیعا قبضتہ یوم القیامۃ و السماوات مطویات بیمینہ سبحانہ و تعالی عما یشرکونo بسم اللہ مجراہا و مرساہا ان ربی لغفور رحیم‘‘۔(معجم الاوسط باب المیم من اسمہ: محمد ۴ / ۳۲۹ الحدیث: ۶۱۳۶)