Surah Az Zukhruf Ayat 78 (43:78)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ 78
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہم تمہارے پاس حق لائے مگر تم میں اکثر حق کو ناپسند کرنے والے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ہم تمہارے پاس حق لائے مگر تم میں اکثر کو حق ناگوار ہے۔
Tafseer (Urdu)
{لقد جئنكم بالحق: بیشک ہم تمہارے پاس حق لائے۔} اس ایت میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ جہنمی کفار کے ساتھ حضرت مالک علیہ السلام کے کلام کا حصہ ہے۔اس صورت میں ایت کا معنی یہ ہے’’ تم ہمیشہ جہنم میں اس لئے رہو گے کہ بیشک ہم تمہارے پاس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ذریعے دین حق لائے تھے مگر تم سب اپنی نفسانی خواہشات کے مخالف ہونے کی وجہ سے دین حق کو ناپسند کرنے والے تھے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس ایت میں اللہ تعالی نے مکہ میں رہنے والے کفار سے خطاب فرمایا ہے۔اس صورت میں ایت کا معنی یہ ہے ’’اے کفار مکہ!بے شک ہم تمہارے پاس اپنے رسول کی معرفت سچا دین لائے مگر تم میں سے تھوڑے افراد اس پر ایمان لائے جبکہ اکثر لوگ بغض اور نفرت کی وجہ سے اس سچے دین کو ناپسند کرنے والے ہیں ۔( جلالین مع صاوی الزخرف تحت الایۃ: ۷۸ ۵ / ۱۹۰۴ ملخصا) دینی چیزوں سے ناگواری کا اظہارکرنا کفار کا کام ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ دینی چیزوں سے کراہت اور ناگواری کا اظہارکرنا کفار کا کام ہے۔اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو مسلمان کہلانے کے باوجود اسلام کے شعائر کو ناپسند کرتے ہیں اوراسلام کے احکامات پر عمل کرنے والے کو بری نظر سے دیکھتے اس کا مذاق اڑاتے اور اسلامی احکام پر عمل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت نصیب فرمائےامین۔