Surah Ad Dukhan Ayat 10 (44:10)
The Smoke · Juz 25 · Makki
فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{فارتقب: تو تم منتظر رہو۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف سے اسلام کی دعوت ملنے پر کفار قریش اپ کو جھٹلاتے اپ کی نافرمانی کرتے اور اپ کا مذاق اڑاتےاس بناپر رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے خلاف دعا کی کہ ’’یارب! انہیں ایسے سات سالہ قحط کی مصیبت میں مبتلا کر جیسے سات سال کا قحط حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھیجا تھا۔ ‘‘یہ دعا قبول ہوئی اورسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ارشاد فرمایا گیا’’اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان کافروں کیلئے اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا جولوگوں کو ڈھانپ لے گا ۔‘‘ چنانچہ قریش پر قحط سالی آئی اور یہاں تک اس کی شدت ہوئی کہ وہ لوگ مردار کھا گئے اور بھوک سے اس حال کو پہنچ گئے کہ جب اوپر کو نظر اٹھاتے اورآسمان کی طرف دیکھتے تو ان کو دھواں ہی دھواں معلوم ہوتا یعنی ایک توکمزوری کی وجہ سے انہیں نگاہوں کے سامنے اندھیرا محسوس ہوتا اور دوسرا قحط سے زمین خشک ہوگئی اس سے خاک اڑنے لگی اورغبار نے ہوا کو ایسا گدلا کردیاکہ انہیں اسمان دھوئیں کی طرح محسوس ہوتا۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں دھوئیں سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کی علامات میں سے ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہوگا اس سے مشرق و مغرب بھر جائیں گے چالیس دن اور رات رہے گااس سے مومن کی حالت تو ایسے ہوجائے گی جیسے زکام ہوجائے جبکہ کافر مدہوش ہوجائیں گے ان کے نتھنوں کانوں اور بدن کے سوراخوں سے دھواں نکلے گا۔( خازن الدخان تحت الایۃ: ۱۰-۱۱ ۴ / ۱۱۳ جمل الدخان تحت الایۃ: ۱۰-۱۱ ۷ / ۱۱۸-۱۱۹ ملتقطا)