Surah Al Jasia Ayat 14 (45:14)
The Crouching · Juz 25 · Makki
قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم ایمان وا لوں سے فرماؤکہ ان لوگوں سے درگزرکریں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو ان کی کمائی کا بدلہ دے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanایمان وا لوں سے فرماؤ درگزریں اُن سے جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔
Tafseer (Urdu)
{قل للذین امنوا: تم ایمان وا لوں سے فرماؤ۔} اللہ تعالی نے اپنی وحدانیت قدرت اور حکمت کے دلائل بیان فرمانے کے بعد اس ایت سے مسلمانوں کی اخلاقی تربیت فرمائی ہے۔اس ایت میں اللہ تعالی کے دنوں سے مراد وہ دن ہیں جو اللہ تعالی نے ایمان والوں کی مدد کے لئے مقرر فرمائے ہیں یا ان دنوں سے وہ واقعات مراد ہیں جن میں وہ اپنے دشمنوں کی پکڑ فرماتا ہے اوران دنوں کی امید نہ رکھنے والوں سے مراد کفار ہیں ۔ ایت کا معنی یہ ہے کہ کفار سے جو ایذا پہنچے اور ان کے کلمات جو تکلیف پہنچائیں مسلمان ان سے در گزر کریں اور ان سے جھگڑا نہ کریں تاکہ اللہ تعالی اس قوم کو ان کے احسانات کا بدلہ دے جنہوں نے دشمنوں کی طرف سے ملنے والی اذیتوں پر صبر کیا۔ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کئی قول ہیں ان میں سے 3درج ذیل ہیں ۔ (1)… غزوہ بنی مصطلق میں مسلمان بیر مریسیع پر اترے یہ ایک کنواں تھا عبداللہ بن ابی منافق نے اپنے غلام کو پانی کے لئے بھیجا اوروہ دیر سے واپس آیا تو اس نے غلام سے سبب دریافت کیا ۔ اس نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کنوئیں کے کنارے پر بیٹھے تھے جب تک نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی مشکیں نہ بھر گئیں اس وقت تک انہوں نے کسی کو پانی بھرنے نہ دیا۔ یہ سن کر اس بدبخت نے ان حضرات کی شان میں گستاخانہ کلمے کہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ تلوار لے کر تیار ہوئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔اس شان نزول کے مطابق یہ آیت مدنی ہوگی۔ (2)…مقاتل کا قول ہے کہ قبیلہ بنی غفار کے ایک شخص نے مکہ مکرمہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو گالی دی تو آپ نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (3)…جب آیت ’’من ذا الذی یقرض الله قرضا حسنا‘‘ نازل ہوئی تو فنحاص یہودی نے کہا کہ محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کا رب محتاج ہوگیا۔ (معاذاللہ تعالی ) اس کی یہ بات سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تلوار کھینچی اور اس کی تلاش میں نکلے لیکن حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں واپس بلوالیا۔(تفسیرکبیرالجاثیۃتحت الایۃ: ۱۴ ۹ / ۶۷۳-۶۷۴ مدارک الجاثیۃ تحت الایۃ: ۱۴ ص۱۱۱۸ جلالین الجاثیۃ تحت الایۃ: ۱۴ ص۴۱۳ ملتقطا)