Surah Al Jasia Ayat 15 (45:15)
The Crouching · Juz 25 · Makki
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا٘-ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو نیک کام کرے تو اپنی ذات کیلئے (ہی کرتا ہے)اور جوبرائی کرے تو وہ اسی پر ہے پھر تم اپنے رب کی طرف ہی لوٹائے جاؤ گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو بھلا کام کرے تو اپنے لیے اور بُرا کرے تو اپنے بُرے کو پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے۔
Tafseer (Urdu)
{من عمل صالحا فلنفسه: جو نیک کام کرے تو اپنی ذات کیلئے۔} یعنی جو شخص ایسے نیک کام کرے جن سے اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنا مقصود ہو تو وہ اپنی ذات کیلئے ہی کرتا ہے کہ ان نیک اعمال کا فائدہ اور ثواب اسے ہی ملے گااور جوبرے کام کرے تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے کہ وہی اپنے برے کاموں کا نقصان اورعذاب برداشت کرے گا پھر تم مرنے کے بعد اپنے اس رب عزوجل کی طرف ہی لوٹائے جاؤ گے جو تمہارے تمام امور کا مالک ہے وہ نیکوں اور بدوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا لہذا تم اس ملاقات کی تیاری کرو۔( روح البیان الجاثیۃ تحت الایۃ: ۱۵ ۸ / ۴۴۲) ہر شخص اپنے اعمال اور انجام پرغور کرے: اس ایت میں نیک اعمال کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے اور برے اعمال کرنے سے ڈرایا بھی گیا ہے لہذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اپنے اعمال اور ان کے انجام پر غور کرے اگر کوئی نفس و شیطان کے بہکاوے میں ا کر برے اعمال میں مصروف ہو تو اسے چاہئے کہ برے اعمال سے سچی توبہ کر کے نیک اعمال شروع کر دے تاکہ ان کی سزا سے بچ سکے اور جو برے اعمال سے بچتے ہوئے نیک اعمال میں مشغول ہو تو اسے چاہئے کہ مزید نیک اعمال کرے تاکہ اخرت کا توشہ زیادہ سے زیادہ جمع ہو جائے۔نیکی کا فائدہ اور گناہ کا نقصان نیکی اور گناہ کرنے والے کو ہونے کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ان احسنتم احسنتم لانفسكم- و ان اساتم فلها‘‘(بنی اسرائیل:۷) ترجمہ کنزالعرفان: اگر تم بھلائی کرو گے تو تم اپنے لئے ہی بہتر کرو گے اور اگر تم برا کرو گے تو تمہاری جانوں کیلئے ہی ہوگا۔ اور ارشاد فرماتاہے: ’’ من كفر فعلیه كفره-و من عمل صالحا فلانفسهم یمهدون‘‘(روم:۴۴) ترجمہ کنزالعرفان: جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پرہے اور جو اچھا کام کریں وہ اپنے ہی کے لئے تیاری کر رہے ہیں ۔