Surah Al Jasia Ayat 24 (45:24)
The Crouching · Juz 25 · Makki
وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُۚ-وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍۚ-اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورانہوں نے کہا:زندگی تو صرف ہماری دنیاوی زندگی ہی ہے ، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے اور انہیں اس کا کچھ علم نہیں ، وہ صرف گمان دوڑاتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بولے وہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ اور اُنھیں اس کا علم نہیں وہ تو نرے گمان دوڑاتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و قالوا: اورانہوں نے کہا۔} مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے والوں کوجب دوسری مرتبہ زندہ کئے جانے کا وعدہ سنایا گیا تو انہوں نے اپنی انتہائی سرکشی اور گمراہی کی بنا پر کہا کہ دنیا کی جو زندگی ہم گزار رہے ہیں اس کے علاوہ اور کوئی زندگی نہیں ہم میں سے بعض مرتے ہیں اور بعض پیدا ہوتے ہیں اور ہمیں صرف دن اور رات کا انا جانا ہی ہلاک کرتا ہے۔مشرکین مرنے کے معاملے میں زمانے کو ہی موثر مانتے تھے جبکہ ملک الموت علیہ السلام کا اور اللہ تعالی کے حکم سے روحیں قبض کئے جانے کا انکار کرتے تھے اور ہر مصیبت کو دہر اور زمانے کی طرف منسوب کرتے تھے اس لئے انہوں نے یہ کہا۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ وہ یہ بات علم اور یقین کی بنا پر نہیں کہتے بلکہ واقع کے برخلاف صرف گمان دوڑاتے ہیں ۔( روح البیان الجاثیۃ تحت الایۃ: ۲۴ ۸ / ۴۴۹ مدارک الجاثیۃ تحت الایۃ: ۲۴ ص۱۱۲۰ ملتقطا) زمانے کو برا کہنا ممنوع ہے: یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ مصیبتوں اور تکلیفوں کو زمانے کی طرف منسوب کرنا اور ناگوار مصیبتیں انے پر زمانے کو برا کہنا ممنوع ہے کیونکہ احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے’’ادم کی اولاد زمانے کو گالیاں دیتی ہے جبکہ زمانہ (کا خالق)میں ہوں رات اور دن میرے قبضے میں ہیں ۔(بخاری کتاب الادب باب لا تسبوا الدہر ۴ / ۱۵۰ الحدیث: ۶۱۸۱) یہی اج کل کے دہریوں کی حالت ہے جو دہر یعنی زمانے کی طرف ہی سب کچھ منسوب کرتے ہیں اور خدا کا انکار کرتے ہیں اگرچہ انہیں اج تک اس بات کی کوئی دلیل نہیں ملی کہ اگر کوئی خالق نہیں ہے تو مخلوق کیسے وجود میں اگئی دہریے ابھی تک بے معنی و فضول تھیوریاں پیش کرنے میں لگے ہوئے ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت تک دنیا کے وجود میں انے کی کوئی توجیہ نہیں کرسکتے جب تک کہ خالق حقیقی کے وجود کو تسلیم نہیں کریں گے۔