Surah Al Ahqaf Ayat 21 (46:21)
The Wind-Curved Sandhills · Juz 26 · Makki
وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍؕ-اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورعاد کے ہم قوم کو یاد کرو جب اس نے اپنی قوم کو سرزمینِ احقاف میں ڈرایا اور بیشک اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی ڈر سنانے والے گزر چکے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈرہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو عاد کے ہم قوم کو جب اس نے ان کو سرزمینِ اَحقاف میں ڈرایا اور بیشک اس سے پہلے ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد آئے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكر اخا عاد: اورعاد کے ہم قوم کو یاد کرو۔} اس سے پہلی ایات میں توحید اور نبوت کو ثابت کرنے کے لئے مختلف دلائل بیان کئے گئے اور کفار مکہ کا حال یہ تھا کہ وہ دنیوی لذتوں میں ڈوبے ہوئے اور انہیں حاصل کرنے میں مشغول ہونے کی بنا پر ان دلائل سے منہ پھیرتے اور ان کی طرف کوئی توجہ نہ کیا کرتے تھے اس لئے یہاں سے قوم عاد کے بارے میں بیان کیا گیا کہ وہ مالقوت اور وجاہت میں کفار مکہ سے بڑھ کر تھے اور جب وہ اپنے کفر و سرکشی پر قائم رہے تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے ان پر عذاب مسلط کر دیا ۔اس واقعے کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ کفار مکہ اس سے عبرت پکڑیں اور اپنے غرور و تکبر کو چھوڑ کر دین اسلام کو قبول کر لیں ۔چنانچہ ارشاد فرمایا:اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کفار مکہ کے سامنے حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ واقعہ بیان کریں جب انہوں نے احقاف کی سرزمین میں بسنے والی اپنی قوم کو ایمان نہ لانے کی صورت میں اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرایا اور یہ ایسی لازمی اور صحیح بات ہے کہ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے اور ان کے بعد بہت سے عذاب الہی کا ڈر سنانے والے پیغمبر گزر چکے ہیں ۔ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:اے میری قوم! اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بیشک مجھے ڈر ہے کہ کہیں تمہارے شرک اور توحید سے اعراض کرنے کی وجہ سے تم پرایک بڑے دن کا عذاب نہ اجائے۔ (اگر تم اس سے بچنا چاہتے ہوتو اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایمان لے او اور صرف اسی کی عبادت کرو۔)( تفسیرکبیر الاحقاف تحت الایۃ: ۲۱ ۱۰ / ۲۴ روح البیان الاحقاف تحت الایۃ: ۲۱ ۸ / ۴۸۰-۴۸۱ ملتقطا) {قالوا: انہوں نے کہا۔} قوم نے حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کو جواب دیا:کیا تم ہمارے پاس اس لئے ائے ہو کہ ہم سے ہمارے بتوں کی پوجا چھڑا کر ہمیں اپنے دین کی طرف پھیر دوایسا ہر گز نہیں ہو سکتااورتم نے ہمیں جو عذاب کی وعید سنائی ہے اس میں اگر تم سچے ہوتو ہم پر وہ عذاب لے او۔( روح البیان الاحقاف تحت الایۃ: ۲۲ ۸ / ۴۸۱)