Surah Muhammad Ayat 32 (47:32)
Muhammad · Juz 26 · Madani
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰىۙ-لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْــٴًـاؕ-وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جنہوں نے کفرکیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعدکہ ان کیلئے ہدایت بالکل ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور بہت جلد اللہ ان کے اعمال برباد کردے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت اُن پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہنچائیں گے اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین كفروا و صدوا عن سبیل الله: بیشک جنہوں نے کفرکیا اور اللہ کی راہ سے روکا ۔} بعض مفسرین کے نزدیک اس ایت میں منافقوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے (ظاہری طور پر اسلام کا دعوی کیا اور باطنی طور پر) کفرکیا اور لوگوں کو اللہ تعالی کی راہ سے روکا اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جوجہاد کرنے کا کہا اور اس کے علاوہ جو احکام دئیے اس میں ان کی مخالفت کی حالانکہ ان کے سامنے ہدایت کے دلائل اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صداقت بالکل ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ تعالی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے کیونکہ اللہ تعالی کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ کوئی اسے نقصان پہنچا سکے بلکہ وہ لوگ ایسا کر کے اپنی ہی جانوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور بہت جلد اللہ تعالی ان کے ظاہری نیک اعمال برباد کردے گا تو وہ اخرت میں ان اعمال کا کوئی ثواب نہ دیکھیں گے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے لئے نہ کئے گئے تھے اور جو کام اللہ تعالی کے لئے نہ ہو اس کا ثواب ہی کیا بعض مفسرین نے اس ایت کا شان نزول یہ بیان کیا ہے کہ جب کفار قریش جنگ بدر کے لئے نکلے تو وہ سال قحط کا تھا اور لشکر کا کھانا قریش کے دولت مند افراد نے ہرہر پڑاو پر اپنے ذمہ لے لیا تھا۔ مکہ مکرمہ سے نکل کر سب سے پہلا کھانا ابوجہل کی طرف سے تھا جس کے لئے اس نے دس اونٹ ذبح کئے تھے پھر صفوان نے عسفان کے مقام میں نواونٹ پھر سہل نے قدید کے مقام میں دس اونٹ ذبح کئے یہاں سے وہ لوگ سمندر کی طرف پھر گئے اور رستہ گم ہوگیا تو ایک دن ٹھہرے رہے وہاں شیبہ کی طرف سے کھانا ہوا اور نو اونٹ ذبح ہوئے پھرابواء کے مقام میں پہنچے وہاں مقیس جمحی نے نو اونٹ ذبح کئے ۔ حضرت عباس کی طرف سے بھی دعوت ہوئی اس وقت تک آپ مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے آپ کی طرف سے دس اونٹ ذبح کئے گئے پھر حارث کی طرف سے نو اور ابوالبختری کی طرف سے بدر کے چشمے پر دس اونٹ ذبح ہوئے ۔ ان کھانا دینے والوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔اس صورت میں ایت کا معنی یہ ہو گا کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے خود کفرکیا اور دوسروں کو اللہ تعالی کے دین اسلام میں داخل ہونے سے روکا اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت کا حق ہونا بالکل ظاہر ہونے کے بعد ان کی مخالفت کی وہ اپنے کفر اور لوگوں کو روکنے کے ذریعے ہرگز اللہ تعالی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور بہت جلد اللہ تعالی ان کے وہ اعمال برباد کردے گا جو انہوں نے اللہ تعالی کے دین کو مٹانے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مخالفت میں کئے ہیں چنانچہ وہ اپنے مقاصد کو پورا نہیں کر سکیں گے ۔(قرطبی محمد تحت الایۃ: ۳۲ ۸ / ۱۸۲ الجزء السادس عشر خازن محمد تحت الایۃ: ۳۲ ۴ / ۱۴۲ صاوی محمد تحت الایۃ : ۳۲ ۵ / ۱۹۶۲ مدارک محمد تحت الایۃ: ۳۲ ص۱۱۳۸ روح البیان محمد تحت الایۃ: ۳۲ ۸ / ۵۲۲ ملتقطا)