Surah Al Fath Ayat 24 (48:24)
The Victory · Juz 26 · Madani
وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہی ہے جس نے وادیٔ مکہ میں کافروں کے ہاتھ تم سے روک دئیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے حالانکہ اللہ نے تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہی ہے جس نے اُن کے ہاتھ تم سے روک دئیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے وادی مکہ میں بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و هو الذی كف ایدیهم عنكم: اور وہی ہے جس نے کافروں کے ہاتھ تم سے روک دئیے۔} ارشاد فرمایا: اللہ وہی ہے جس نے وادی مکہ میں کافروں کے ہاتھ تم سے( لڑائی کرنے سے) روک دئیے اور تمہارے ہاتھ ان کافروں (کو قتل کرنے )سے روک دئیے حالانکہ اللہ تعالی نے تمہیں ان کافروں پر قابو دے دیا تھا( اور تم انہیں اسانی سے قتل کر سکتے تھےاگر تم انہیں قتل کر دیتے تو دونوں طرف سے لڑائی چھڑ جاتی اور اس لڑائی میں اگرچہ مسلمان ہی غالب اتے لیکن اس موقع پر یہ مسلمانوں کے حق زیادہ مفید نہ ہوتی اسی لئے اللہ تعالی نے جنگ کا سبب پیدا ہی نہ ہونے دیا) اور اللہ تعالی تمہارے کام دیکھتا ہے۔بعض مفسرین کے نزدیک یہ معاملہ فتح مکہ کے دن ہوا اور اسی سے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ مکہ مکرمہ صلح سے نہیں بلکہ قوت سے فتح ہوا تھا اور بعض مفسرین کے نزدیک صلح حدیبیہ کے موقع پر ایسا ہوا۔( مدارک الفتح تحت الایۃ: ۲۴ ص۱۱۴۵) اور اس ایت کے شان نزول سے متعلق حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ میں سے80 ہتھیار بند جوان جبل تنعیم سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے ارادہ سے اترے مسلمانوں نے انہیں گرفتار کرکے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضرکر دیا حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے معاف فرمایا اور چھوڑ دیااس پر یہ ایت نازل ہوئی۔( در منثور الفتح تحت الایۃ: ۲۴ ۷ / ۵۲۷ خزائن العرفان الفتح تحت الایۃ: ۲۴ ص۹۴۴)