Surah Al Hujurat Ayat 1 (49:1)
The Rooms · Juz 26 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھواور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سُنتا جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{یایها الذین امنوا: اے ایمان والو!۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے ایمان والوں کو اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے اور ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اجازت کے بغیرکسی قول اور فعل میں اصلا ان سے اگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ اگے بڑھنارسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ادب و احترام کے خلاف ہے جبکہ بارگاہ رسالت میں نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے تمام اقوال و افعال میں اللہ تعالی سے ڈرو کیونکہ اگر تم اللہ تعالی سے ڈرو گے تو یہ ڈرنا تمہیں اگے بڑھنے سے روکے گا اور ویسے بھی اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ وہ تمہارے تمام اقوال کو سنتا اور تمام افعال کو جانتا ہے اور جس کی ایسی شان ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ اس ایت کے شان نزول سے متعلق مختلف روایات ہیں ان میں سے دو روایات درج ذیل ہیں (1)…چند لوگوں نے عیدالاضحی کے دن سر کار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں ۔ (2)… حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ بعض لوگ رمضان سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھےان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم سے اگے نہ بڑھو۔ (خازن الحجرات تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۱۶۳-۱۶۴ جلالین الحجرات تحت الایۃ: ۱ ص۴۲۶ مدارک الحجرات تحت الایۃ: ۱ ص۱۱۴۹-۱۱۵۰ ملتقطا) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:(اس ایت کا)شان نزول کچھ بھی ہو مگر یہ حکم سب کو عام ہے یعنی کسی بات میں کسی کام میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے اگے ہونا منع ہے اگر حضور علیہ السلام کے ہمراہ راستہ میں جا رہے ہوں تو اگے اگے چلنا منع ہے مگر خادم کی حیثیت سے یا کسی ضرورت سے اجازت لے کر(چلنا منع نہیں ) اگر ساتھ کھانا ہو تو پہلے شروع کر دینا ناجائزاسی طرح اپنی عقل اور اپنی رائے کو حضور علیہ السلام کی رائے سے مقدم کرنا حرام ہے۔( شان حبیب الرحمن ص۲۲۴) ایت ’’لا تقدموا بین یدی الله و رسوله‘‘ سے متعلق5باتیں : یہاں اس ایت سے متعلق5باتیں ملاحظہ ہوں (1)…اللہ تعالی کی بارگاہ میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان اتنی بلند ہے کہ ان کی بارگاہ کے اداب اللہ تعالی نے ارشاد فرمائے ہیں ۔ (2)…اس ایت میں اللہ تعالی اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دونوں سے اگے نہ بڑھنے کا فرمایا گیا حالانکہ اللہ تعالی سے اگے ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ وہ نہ زمانہ میں ہے نہ کسی مکان میں اور اگے ہونا یا زمانہ میں ہوتا ہے یا جگہ میں معلوم ہوا کہ ایت کا مقصد یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اگے نہ بڑھوان کی بے ادبی دراصل اللہ تعالی کی بے ادبی ہے۔( شان حبیب الرحمنص۲۲۴-۲۲۵ ملخصا) (3)…حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خادم کی حیثیت سے یا کسی ضرورت کی بنا پر اپ سے اجازت لے کر اگے بڑھنا اس ممانعت میں داخل نہیں ہے لہذا احادیث میں جو بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اگے اگے چلنا مذکور ہے وہ اس ایت میں داخل نہیں کیونکہ ان کا چلنا خادم کی حیثیت سے تھا یونہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا امامت کروانابھی اس میں داخل نہیں کیونکہ اپ کا یہ عمل حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اجازت سے تھا۔ (4)…علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :علماء کرام چونکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے وارث ہیں اس لئے ان سے اگے بڑھنا بھی اس ممانعت میں داخل ہے اور اس کی دلیل حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی وہ روایت ہے جس میں اپ فرماتے ہیں :حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے اگے چلتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا’’اے ابو دردائ!کیا تم اس کے اگے چلتے ہو جو تم سے بلکہ ساری دنیا سے افضل ہے ۔( روح البیان الحجرات تحت الایۃ: ۱ ۹ / ۶۲) یا درہے کہ یہ ادب ان علماء کرام کے لئے ہے جو اہل حق اور با عمل ہیں کیونکہ یہی علماء در حقیقت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے وارث ہیں جبکہ بد مذہبوں کے علماء اور بے عمل عالم اس ادب کے مستحق نہیں ہیں ۔ (5)… بعض ادب والے لوگ بزرگوں یا قران شریف کی طرف پیٹھ نہیں کرتے ان کے اس عمل کا ماخذ یہ ایت ہے۔