Surah Al Hujurat Ayat 2 (49:2)
The Rooms · Juz 26 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبرنہ ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّاکر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
Tafseer (Urdu)
{یایها الذین امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی اواز پر اونچی نہ کرو۔} اس ایت مبارکہ میں بھی اللہ تعالی نے ایمان والوں کواپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دو عظیم اداب سکھائے ہیںپہلا ادب یہ ہے کہ اے ایمان والو! جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری اواز ان کی اواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پست آواز سے کرو ۔دوسرا ادب یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو بلکہ تمہیں جو عرض کرنا ہو وہ ادب و تعظیم اور توصیف وتکریم کے کلمات اور عظمت والے القاب کے ساتھ عرض کرو جیسے یوں کہو: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم یا نبی اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیونکہ ترک ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہو گی ۔( قرطبی الحجرات تحت الایۃ: ۲ ۸ / ۲۲۰ الجزء السادس عشر) مفسرین نے اس ایت کے شان نزول کے بارے میں مختلف روایات ذکر کی ہیں ان میں سے چندروایت درج ذیل ہیں : (1)…حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : دو بہترین حضرات ہلاک ہونے کے قریب جا پہنچے تھے ہوا یوں کہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں اس وقت اپنی اوازیں اونچی کر دی تھیں جب بنو تمیم کے سوار بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تھے ان میں سے ایک صاحب نے بنی مجاشع کے بھائی اقرع بن حابس کی طرف اشارہ کیا(کہ انہیں ان کی قوم کا حاکم بنا دیاجائے) اور دوسرے نے ایک اور شخص کی جانب اشارہ کیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا:اپ(یہ کہہ کر) میری مخالفت کرنا چاہتے ہیں ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا:میں تو اپ کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا۔ یہ گفتگو کرتے ہوئے ان دونوں حضرات کی اوازیں بلند ہو گئیں اس پر اللہ تعالی نے یہ ایت نازل فرمائی ’’ یایها الذین امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی۔۔۔الایہ‘‘۔(بخاریکتاب التفسیر باب لا ترفعوا اصواتکم... الخ ۳ / ۳۳۱ الحدیث : ۴۸۴۵) صحیح بخاری شریف کی دوسری روایت میں ہے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے البتہ اس کے اخر میں یہ ہے کہ ’’اس گفتگو کے دوران ان کی اوازیں بلند ہو گئیں تو اس معاملے میں یہ ایت نازل ہوئی ’’ یایها الذین امنوا لا تقدموا‘‘ یہاں تک کہ ایت (’’ و انتم لا تشعرون‘‘ تک) پوری ہوگئی۔( بخاری کتاب التفسیر باب ان الذین ینادونک... الخ ۳ / ۳۳۲ الحدیث: ۴۸۴۷) اس صورت میں اس شان نزول کا تعلق ایت نمبر 1اور2دونوں سے ہے ۔ (2)… دوسرا شان نزول یہ بیان ہوا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں منافقین اپنی اوازیں بلند کیا کرتے تھے تاکہ کمزور مسلمان(اس معاملے میں )ان کی پیروی کریں اس پر مسلمانوں کوبارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں اواز بلند کرنے سے منع کر دیا گیا (تاکہ منافق اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوں)( قرطبی الحجرات تحت الایۃ : ۲ ۸ / ۲۲۰ الجزء السادس عشر) (3)…تیسرا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں نازل ہوئی وہ اونچا سنا کرتے تھے ان کی آواز بھی اونچی تھی اور بات کرنے میں آواز بلند ہوجایا کرتی تھی اور بعض اوقات اس سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اذیت ہوتی تھی۔( مدارک الحجرات تحت الایۃ: ۲ ص۱۱۵۰) حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ کا بلند اوازسے بات کرنا اگرچہ اونچا سننے کی معذوری کی بنا پر تھا لیکن معذوری اونچا سننا تھا نہ کہ اونچا بولنا کیونکہ اونچا سننے والے کیلئے اونچا بولنا تو ضروری نہیں اور اونچا سننے والے کو سمجھایا جائے کہ بھائی تمہیں اونچا سنتا ہے دوسروں کو نہیں لہذا تم اپنی اواز پست رکھو تو اس کہنے میں حرج نہیں بلکہ یہ عین درست اور قابل عمل بات ہے اور تیسرے شان نزول کے اعتبار سے یہی تفہیم کی گئی ہے۔ نوٹ: اس ایت کے شان نزول سے متعلق اور بھی روایات ہیں ممکن ہے کہ اس ایت کے نزول سے پہلے مختلف اسباب پیدا ہوئے ہوں اور بعد میں ایک ہی مرتبہ یہ ایت نازل ہو گئی ہوجیسا کہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اس بات سے کوئی چیز مانع نہیں کہ ایت کا نزول مختلف اسباب کی وجہ سے ہوا ہوجو ایت نازل ہونے سے پہلے وقوع پزیر ہوئے تھے اور جب ان (روایات جن میں یہ) اسباب (بیان ہوئے) کی اسناد صحیح ہیں اور ان میں تطبیق واضح ہے تو پھر ان میں سے کسی کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔(فتح الباری کتاب التفسیر باب لاترفعوا اصواتکم... الخ ۹ / ۵۱۰ تحت الحدیث: ۴۸۴۶) نیزیہ بھی ضروری نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے کوئی بے ادبی سرزد ہوئی ہو جس پر انہیں تنبیہ کی گئی ہوعین ممکن ہے کہ پیش بندی کے طور پر انہیں یہ اداب تعلیم فرمائے گئے ہوں اور بے ادبی کی سزا سے اگاہ کیا گیا ہو۔ ایت ’’لا ترفعوا اصواتكم‘‘ کے نزول کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا حال: جب یہ ایت مبارکہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم بہت محتاط ہو گئے اور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے گفتگو کے دوران بہت سی احتیاطوں کو اپنے اوپر لازم کر لیا تاکہ اواز زیادہ بلند نہ ہو جائے نیز اپنے علاوہ دوسروں کو بھی ا س ادب کی سختی سے تلقین کرتے تھے اسی طرح اپ کے وصال ظاہری کے بعد اپ کے روضہ انور کے پاس (خود بھی اواز بلند نہ کرتے اور) دوسروں کو بھی اواز اونچی کرنے سے منع کرتے تھےیہاں اسی سے متعلق 6 واقعات ملاحظہ ہوں : (1)… حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:جب یہ ایت ’’یایها الذین امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی ‘‘ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کی قسم! ائندہ میں اپ سے سرگوشی کے انداز میں بات کیا کروں گا۔( کنزالعمالکتاب الاذکارقسم الافعالفصل فی التفسیرسورۃ الحجرات۱ / ۲۱۴ الجزء الثانی الحدیث: ۴۶۰۴) (2)…حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :یہ ایت نازل ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا حال یہ تھا کہ اپ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں بہت اہستہ اواز سے بات کرتے حتی کہ بعض اوقات حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بات سمجھنے کے لئے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ الحجرات ۵ / ۱۷۷ الحدیث: ۳۲۷۷) (3)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور (اللہ تعالی کے خوف کی وجہ سے) کہنے لگے: میں اہل نار سے ہوں ۔(جب یہ کچھ عرصہ بارگاہ رسالت میں حاضر نہ ہوئے تو) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کا حال دریافت فرمایا انہوں نے عرض کی: وہ میرے پڑوسی ہیں اور میری معلومات کے مطابق انہیں کوئی بیماری بھی نہیں ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے اس بات کا ذکر کیا تو اپ نے کہا:یہ آیت نازل ہوئی ہے اور تم لوگ جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں (اور جب ایسا ہے) تو میں جہنمی ہوگیا ۔حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ صورت حال حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو اپ نے ارشاد فرمایا: ’’(وہ جہنمی نہیں) بلکہ وہ جنت والوں میں سے ہیں ۔(مسلم کتاب الایمان باب مخافۃ المومن ان یحبط عملہ ص۷۳ الحدیث: ۱۸۷(۱۱۹)) نوٹ:صحیح مسلم کی اس روایت میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر ہے اور تفسیر ابن منذر میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی مروی یہی واقعہ مذکور ہے اس میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی بجائے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھنا زیادہ درست ہے کیونکہ اپ کا تعلق حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ کے قبیلہ (خزرج) سے ہے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کے مقابلے میں ان کا حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کا پڑوسی ہونا زیادہ واضح ہے کیونکہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق دوسرے قبیلے (یعنی اوس) سے تھا۔( فتح الباری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام ۷ / ۵۱۷ تحت الحدیث: ۳۶۱۳) نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق یہ ایت اس وقت نازل ہوئی جب بنو تمیم کا وفد سر کار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور یہ سن 9ہجری کا واقعہ ہے جبکہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ تو سن 5ہجری میں غزوہ بنوقریظہ کے بعد وفات پا گئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وصال ظاہری کے بہت بعد کی ہے ۔ (4)… حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:میں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے منبر کے پاس تھاایک شخص نے کہا:اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔دوسرے شخص نے کہا:اسلام لانے کے بعد اگر میں مسجد حرام کو اباد کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔تیسرے شخص نے کہا:اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنا تمہاری کہی ہوئی باتوں سے افضل ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے منبر کے پاس اپنی اواز بلند نہ کرو۔( مسلم کتاب الامارۃ باب فضل الشہادۃ فی سبیل اللہ تعالی ص۱۰۴۴ الحدیث: ۱۱۱(۱۸۷۹)) (5)… ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے مسجد نبوی میں دو شخصوں کی بلند اواز سنی تو اپ (ان کے پاس) تشریف لائے اور فرمایا’’کیا تم دونوں جانتے ہو کہ کہاں کھڑے ہوپھر ارشاد فرمایا:تم کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو دونوں نے عرض کی:ہم طائف کے رہنے والے ہیں :ارشاد فرمایا:اگر تم مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوتے تو میں (یہاں اواز بلند کرنے کی وجہ سے) تمہیں ضرور سزا دیتا (کیونکہ مدینہ منورہ میں رہنے والے دربار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اداب سے خوب واقف ہیں )۔( ابن کثیر الحجرات تحت الایۃ: ۲ ۷ / ۳۴۳) (6)… اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے روضہ انور کے پاس کسی کو اونچی آواز سے بولتے دیکھا فرمایا: کیا اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند کرتاہے اور یہی آیت (یایها الذین امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی) تلاوت کی۔(ہوسکتا ہے کہ واقعہ وہی ہو جو اوپر چار نمبر کے تحت بیان ہوا ہے۔)( فتاوی رضویہ ۱۵ / ۱۶۹) ایت ’’ لا ترفعوا اصواتكم‘‘ میں دئیے گئے حکم پر دیگربزرگان دین کاعمل: صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں بھی اور وصال ظاہری کے بعد بھی اپ کی بارگاہ کا بے حد ادب و احترام کیا اور اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ کے جو اداب انہیں تعلیم فرمائے انہیں دل و جان سے بجا لائے اسی طرح ان کے بعد تشریف لانے والے دیگر بزرگان دین رحمۃاللہ تعالی علیہم نے بھی دربار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اداب کاخوب خیال رکھا اور دوسروں کو بھی وہ اداب بجا لانے کی تلقین کی چنانچہ یہاں ان کی سیرت کے اس پہلو سے متعلق3 واقعات ملاحظہ ہوں : (1)…ابو جعفر منصور بادشاہ مسجد نبوی میں حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک مسئلے کے بارے میں گفتگو کررہا تھا(اس دوران ا س کی اواز کچھ بلند ہوئی تو) امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے فرمایا: اے مسلمانوں کے امیر! اس مسجد میں اواز بلند نہ کر کیونکہ اللہ تعالی نے ایک جماعت کو ادب سکھایا اور فرمایا: ’’ لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی ‘‘(حجرات:۲) ترجمہ کنزالعرفان: اپنی آوازیں نبی کی اواز پر اونچی نہ کرو۔ اور ایک جماعت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ’’ان الذین یغضون اصواتهم عند رسول الله اولىك الذین امتحن الله قلوبهم للتقوى-لهم مغفرة و اجر عظیم‘‘(حجرات:۳) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ اور ایک جماعت کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ان الذین ینادونك من ورآء الحجرت اكثرهم لا یعقلون‘‘(حجرات:۴) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک جو لوگ اپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔ بے شک وصال کے بعد بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عزت ایسی ہے جیسی اپ کی ظاہری حیات میں تھی۔ (یہ سن کر) ابو جعفر نے عاجزی کا اظہار کیا اور کہا: اے ابو عبداللہ! میں قبلہ رو ہوکر دعا کروں یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف رخ کروں امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: تو حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کیوں رخ پھیرتا ہے حالانکہ حضورانور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں تیرے اور تیرے جد امجد حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے وسیلہ ہیں تو حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف رخ کر اور شفاعت کی درخواست کر اللہ تعالی تیرے لئے شفاعت قبول فرمائے گا۔( الشفا القسم الثانی الباب الاول فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم... الخ ص۴۱ الجزء الثانی) (2)…امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ (مسجد نبوی میں درس دیا کرتے تھے جب ان) کے حلقہ درس میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ان سے عرض کی گئی : اپ ایک ادمی مقرر کر لیں جو (اپ سے حدیث پاک سن کر) لوگوں کو سنا دے ۔امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ یایها الذین امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی ‘‘(حجرات:۲) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی اواز پر اونچی نہ کرو۔ اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عزت و حرمت زندگی اور وفات دونوں میں برابر ہے (اس لئے میں یہاں کسی شخص کواواز بلند کرنے کے لئے ہر گز مقرر نہیں کر سکتا)۔( الشفا القسم الثانی الباب الاول فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم... الخ ص۴۳ الجزء الثانی) (3)…حضرت سلیمان بن حرب رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :ایک دن حضرت حماد بن زید رحمۃاللہ تعالی علیہ نے حدیث پاک بیان کی توایک شخص کسی چیز کے بارے میں کلام کرنے لگ گیااس پر حضرت حماد رحمۃاللہ تعالی علیہ غضبناک ہوئے اور کہا:اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے: ’’ لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی‘‘(حجرات:۲) ترجمہ کنزالعرفان: اپنی آوازیں نبی کی اواز پر اونچی نہ کرو۔ اور میں کہہ رہاہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ تم کلام کر رہے ہو (یعنی اواز اگرچہ میری ہے لیکن کلام تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ہےپھر تم اس کلام کو سنتے ہوئے کیوں گفتگوکر رہے ہو) ۔( شعب الایمان الخامس عشر من شعب الایمان... الخ ۲ / ۲۰۶ روایت نمبر: ۱۵۴۶) ایت ’’لا ترفعوا اصواتكم‘‘ سے متعلق 3 اہم باتیں یہاں اس ایت سے متعلق 3اہم باتیں ملاحظہ ہوں : (1)… بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا جو ادب و احترام اس ایت میں بیان ہوا یہ اپ کی ظاہری حیات مبارکہ کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ اپ کی وفات ظاہری سے لے کر تا قیامت بھی یہی ادب و احترام باقی ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اب بھی حاجیوں کو حکم ہے کہ جب روضہ پاک پر حاضری نصیب ہو تو سلام بہت اہستہ کریں اور کچھ دور کھڑے ہوں بلکہ بعض فقہا نے تو حکم دیاہے کہ جب حدیث پاک کا درس ہو رہا ہو تو وہاں دوسرے لوگ بلند اواز سے نہ بولیں کہ اگرچہ بولنے والا (یعنی حدیث پاک کا درس دینے والا) اور ہے مگر کلام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔(شان حبیب الرحمنص۲۲۵) (2)… بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں ایسی اواز بلند کرنا منع ہے جو اپ کی تعظیم وتوقیر کے برخلاف ہے اور بے ادبی کے زمرے میں داخل ہے اور اگر اس سے بے ادبی اور توہین کی نیت ہو تو یہ کفر ہے لہذا جنگ کے دوران یا اشعار کی صورت میں کفار کی مذمت بیان کرنے کے دوران صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی جو اوازیں بلند ہوئیں وہ اس ایت میں داخل نہیں کیونکہ یہ تعظیم و توقیر کے خلاف نہ تھیں بلکہ بعض مقامات پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اجازت سے تھیںاسی طرح اذان کے وقت جو اواز بلند ہوئی وہ بھی اس میں داخل نہیں کیونکہ اذان ہوتی ہی بلند اواز سے ہے۔ (3)…علماء کرام کی مجالس میں بھی اواز بلند کرنا ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے وارث ہیں۔(قرطبی الحجرات تحت الایۃ: ۲ ۸ / ۲۲۰ الجزء السادس عشر)