Surah Al Hujurat Ayat 3 (49:3)
The Rooms · Juz 26 · Madani
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسولُ اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین یغضون اصواتهم عند رسول الله: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں ۔} شان نزول:جب یہ ایت ’’یایها الذین امنوا لا ترفعوا اصواتكم‘‘ نازل ہوئی تو اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق اورکچھ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے بہت احتیاط لازم کر لی اورسرکاردو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں بہت ہی پست آواز سے عرض معروض کرتے (جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے) ان حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے عمل کو سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا’’بیشک جولوگ ادب اور تعظیم کے طور پر اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالی نے پرہیز گاری کے لئے پرکھ لیا (اور ان میں موجود پرہیز گاری کو ظاہر فرما دیا) ہے ان کے یے اخرت میں بخشش اور بڑا ثواب ہے۔( جلالین مع صاوی الحجرات تحت الایۃ: ۳ ۵ / ۱۹۸۷-۱۹۸۸) ایت ’’ان الذین یغضون اصواتهم‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات: اس ایت سے 5 باتیں معلوم ہوئیں (1)… تمام عبادات بدن کا تقوی ہیں اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ادب دل کا تقوی ہے۔ (2)…اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے دل تقوی کے لئے پرکھ لئے ہیں تو جو انہیں معاذاللہ فاسق مانے وہ اس ایت کا منکر ہے۔ (3)…صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم انتہائی پرہیز گار اور اللہ تعالی سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے کیونکہ جس نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اللہ تعالی کا رسول مان لیا اور اپ کی اس قدر تعظیم کی کہ اپ کے سامنے اس ڈر سے اپنی اواز تک بلند نہ کی کہ کہیں بلند اواز سے بولنے کی بنا پر اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں تو ا س کے دل میں اللہ تعالی کی تعظیم اور اس کا خوف کتنا زیادہ ہو گا۔ (4)… حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کی بخشش یقینی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ان کی بخشش کا اعلان فرمادیا ہے۔ (5)… ان دونوں بزرگوں کا اجر وثواب ہمارے وہم وخیال سے بالا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اسے عظیم فرمایا ہے۔ حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی شان: حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی معذوری کے باوجود اپنے اوپر یہ لازم کر لیا تھا کہ وہ کبھی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اواز پر اپنی اواز بلند نہیں کریں گے ان کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :ہم اہل جنت میں سے ایک شخص کو اپنے سامنے چلتا ہوا دیکھتے تھے اور جب یمامہ کے مقام پر مسیلمہ سے جنگ ہوئی تو حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ شکست کھا گیا ہے یہ دیکھ کر اپ نے فرمایا: ان لوگوں پر افسوس ہے پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالی کے دشمنوں سے اس طرح جنگ نہیں کیا کرتے تھے۔پھر یہ دونوں ڈٹ گئے اور لڑائی کرتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں خواب میں دیکھاانہوں نے فرمایا:فلاں شخص میری زرہ اتار کر لے گیا ہے اور وہ لشکر کے کونے میں گھوڑے کے پاس پتھر کی ہنڈیا کے نیچے رکھی ہوئی ہے لہذ اپ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جائیں اور انہیں اس کی خبر دیں تاکہ وہ میری زرہ واپس لے سکیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جائیں اور ان سے عرض کریں :مجھ پر قرض ہے تاکہ وہ میرا قرض ادا کردیں اور میرا فلاں غلام ازاد ہے۔چنانچہ ان صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کی خبر دی تو انہوں نے زرہ اور گھوڑے کو اسی طرح پایاجیسے حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان فرمایا تھا انہوں نے زرہ لے لی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو اس خواب کی خبر دی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیت کو نافذ کر دیا۔ حضرت مالک بن انس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : مجھے اس وصیت کے علاوہ کوئی ایسی وصیت معلوم نہیں جو کسی کی وفات کے بعد نافذ کی گئی ہو۔( صاوی الحجرات تحت الایۃ: ۳ ۵ / ۱۹۸۸)