Surah Al Maidah Ayat 1 (5:1)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ-اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِـلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا کرو۔ تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کردیے گئے سوائے ان کے جو (آگے) تمہارے سامنے بیان کئے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار حلال نہ سمجھو۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو اپنے قول پورے کرو تمہارے لئے حلال ہوئے بے زبان مویشی مگر وہ جو آگے سنایا جائے گا تم کو لیکن شکار حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو بیشک اللہ حکم فرماتا ہے جو چاہے۔
Tafseer (Urdu)
{اوفوا بالعقود: تمام عہد پورے کرو۔} عقود کا معنی عہد ہیں انہیں پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے مراد کون سے عہد ہیں اس بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں : (1)… امام ابن جریج رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ یہاں اہل کتاب کو خطاب فرمایا گیا ہے اور معنی یہ ہیں کہ اے اہل کتاب کے مومنو! میں نے گزشتہ کتابوں میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرنے کے متعلق جو تم سے عہد لئے ہیں وہ پورے کرو۔ (2)… بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس ایت میں خطاب مومنین کو ہے انہیں اپنے عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (3)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ ان عقود یعنی عہدوں سے مراد ایمان اور وہ عہد ہیں جو حرام و حلال کے متعلق قرآن پاک میں لئے گئے۔ (4)…بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس میں مومنین کے باہمی معاہدے مراد ہیں۔ (خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۱ ۱ / ۴۵۸) {احلت لكم: تمہارے لئے حلال کردئیے گئے۔} یہاں سے حلال جانوروں کابیان کیا گیا ہے چنانچہ فرمایا کہ جن کی حرمت شریعت میں بیان ہوئی ہے ان کے سوا تمام چوپائے تمہارے لئے حلال کئے گئے۔ اس میں ان کفار کا رد ہے جو بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جا نور بحیرہ سائبہ وغیر ہ کو حرام سمجھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حرام صرف وہ ہے جسے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حرام فرما دیں۔ حلال کے لئے خا ص دلیل کی ضرورت نہیں کسی چیز کا حرام نہ ہو نا ہی حلا ل کی دلیل ہے جس طرح اس ایت میں واضح طور پر فرما دیا گیا۔ اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو مسلمانوں کے پاکیزہ کھانوں کو حیلے بہانوں سے حرام بلکہ شرک قرار دیتے رہتے ہیں۔ {و انتم حرم: اور تم حالت احرام میں ہو۔} احرام کی حالت میں خشکی کا شکار کر نا حرام ہے جبکہ دریا ئی شکار جائز ہے۔(بدائع الصنائع کتاب الحج فصل واما بیان انواعہ ۲ / ۴۲۷) خیال رہے کہ محرم (یعنی احرام والے) کا شکار کیا ہو ا نہ محرم کو حلال ہے نہ غیر کو احرام خواہ حج کا ہو یا عمرہ کا۔ اس سورۃ کے آخر میں بھی محرم کے شکار کے مسائل کا بیان آئے گا۔