Surah Al Maidah Ayat 100 (5:100)
The Table Spread · Juz 7 · Madani
قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 100
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرمادو کہ گندا اور پاکیزہ برابر نہیں ہیں اگرچہ گندے لوگوں کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے تو اے عقل والو! تم اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرمادو کہ ستھرا اور گندہ برابر نہیں اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والوکہ تم فلاح پاؤ۔
Tafseer (Urdu)
{ قل لا یستوی الخبیث و الطیب: تم فرمادو کہ گندا اور پاکیزہ برابر نہیں ہیں۔}اس ایت میں فرمایا گیا کہ حلال و حرام نیک و بد مسلم و کافر اور کھرا کھوٹا ایک درجہ میں نہیں ہوسکتے بلکہ حرام کی جگہ حلال بد کی جگہ نیک کافر کی جگہ مسلمان اور کھوٹے کی جگہ کھرا ہی مقبول ہے۔ { و لو اعجبك كثرة الخبیث:اگرچہ گندے کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے۔}اس کا معنی یہ ہے کہ دنیا داروں کو مال و دولت کی کثرت اور دنیا کی زیب و زینت بھاتی ہے حالانکہ جو نعمتیں اللہ تعالی کے پاس ہیں وہ سب سے اچھی اور سب سے زیادہ باقی رہنے والی ہیں کیونکہ دنیا کی زینت و ارائش اور اس کی نعمتیں ختم ہو جائیں گی جبکہ وہ نعمتیں ہمیشہ باقی رہیں گی جو اللہ تعالی کے پاس ہیں۔( خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۱۰۰ ۱ / ۵۳۰) دنیا کی مذمت : اس سے معلوم ہو اکہ دنیا کے مال و دولت کی چاہتا س کی نعمتوں اور اسائشوں کی خواہشات اور اس کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کی تمنا میں لگے رہنا اور اپنی اخرت کی تیاری سے غافل رہنا انتہائی مذموم ہے۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’زین للناس حب الشهوت من النسآء و البنین و القناطیر المقنطرة من الذهب و الفضة و الخیل المسومة و الانعام و الحرث-ذلك متاع الحیوة الدنیا-و الله عنده حسن الماب‘‘(ال عمران:۱۴) ترجمہ کنزالعرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو اراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اورمویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے اراستہ کردیا گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’و من یرد ثواب الدنیا نؤته منها-و من یرد ثواب الاخرة نؤته منها-و سنجزی الشكرین‘‘(ال عمران:۱۴۵) ترجمہ کنزالعرفان:اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے دنیا کا کچھ انعام دیدیں گے اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اخرت کا انعام عطافرمائیں گے اورعنقریب ہم شکر ادا کرنے والوں کو صلہ عطا کریں گے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص ہمیشہ دنیا کی فکر میں مبتلارہے گا (اور دین کی پرواہ نہ کرے گا )تواللہ تعالی ا س کے تمام کام پریشان کر دے گا اور ا س کی مفلسی ہمیشہ اس کے سامنے رہے گی اور اسے دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور جس کی نیت اخرت کی جانب ہو گی تو اللہ تعالی اس کی دل جمعی کے لئے ا س کے تمام کام درست فرما دے گا اور ا س کے دل میں دنیا کی بے پروائی ڈال دے گا اور دنیا اس کے پاس خودبخود ائے گی۔(ابن ماجہ کتاب الزہد باب الہم بالدنیا ۴ / ۴۲۴ الحدیث: ۴۱۰۵) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’دنیا اس کا گھر ہے جس کا (اخرت میں ) کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے جس کا دوسرا کوئی مال نہیں اور دنیا کے لئے وہ ادمی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہیں۔(شعب الایمان الحادی والسبعون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ فصل فیما بلغنا عن الصحابۃ۔۔۔ الخ ۷ / ۳۷۵ الحدیث: ۱۰۶۳۸) حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی اخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی اخرت سے محبت کی ا س نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا پس تم فنا ہونے والی (دنیا) پر باقی رہنے والی (اخرت ) کو ترجیح دو۔( مسند امام احمد مسند الکوفیین حدیث ابی موسی الاشعری ۷ / ۱۶۵ الحدیث: ۱۹۷۱۷) اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اپنی دنیوی بہتری کے ساتھ ساتھ اپنی اخروی تیاری کی طرف بھی توجہ کرنے اور اس کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین۔