Surah Al Maidah Ayat 101 (5:101)
The Table Spread · Juz 7 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ 101
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم انہیں اس وقت پوچھو گے جبکہ قرآن نازل کیا جارہا ہے تو تم پروہ چیزیں ظاہر کردی جائیں گی اور اللہ ان کو معاف کرچکا ہے اور اللہ بخشنے والا ،حلم والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والوایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر انہیں اس وقت پوچھو گے کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ انہیں معاف فرما چکا ہے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ لا تســٴـلوا عن اشیآء ان تبد لكم تسؤكم: ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔} اس ایت مبارکہ کا شان نزول یہ ہے کہ ایک روز سرورکائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا ’’جس کو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرے ۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالی عنہ نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے ارشاد فرمایا ’’حذافہ۔ پھر فرمایا ’’اور پوچھو تو حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اٹھ کر ایمان و رسالت کا اقرار کرکے معذرت پیش کی۔( بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب وقت الظہر عند الزوال ۱ / ۲۰۰ الحدیث: ۵۴۰) امام ابن شہاب زہری رحمۃاللہ تعالی علیہ کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ نے ان سے شکایت کی اور کہا کہ ’’تو بہت نالائق بیٹا ہے تجھے کیا معلوم کہ زمانہ جاہلیت کی عورتوں کا کیا حال تھا خدانخواستہ تیری ماں سے کوئی قصور ہوا ہوتا تو آج وہ کیسی رسوا ہوتی۔ اس پرحضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ اگر سرکار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کسی حبشی غلام کو میرا باپ بتادیتے تو میں یقین کے ساتھ مان لیتا۔( تفسیر بغوی المائدۃ تحت الایۃ: ۱۰۱ ۲ / ۵۷) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ’’لوگ بطریق استہزاء اس قسم کے سوا ل کیا کرتے تھے کوئی کہتا میرا باپ کون ہے کوئی پوچھتا کہ میری اونٹنی گم ہوگئی ہے وہ کہاں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔( بخاری کتاب التفسیر باب لا تسالوا عن اشیاء ان تبد لکم تسوکم ۳ / ۲۱۸ الحدیث: ۴۶۲۲) مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خطبہ میں حج فرض ہونے کا بیان فرمایا۔ اس پر ایک شخص نے کہا کیا ہر سال فرض ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سکوت فرمایا۔ سائل نے سوال کی تکرار کی تو ارشاد فرمایا کہ’’ جو میں بیان نہ کروں اس کے درپے نہ ہو اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے۔( مسلم کتاب الحج۔ باب فرض الحج مرۃ فی العمر ص ۶۹۸ الحدیث: ۴۱۲(۱۳۳۷)) ایت’’ لا تســٴـلوا عن اشیآء ‘‘ اوراس کی تفسیرمیں مذکورروایات سے معلوم ہونے والی اہم باتیں : اس ایت اور ا س کی تفسیر میں جو روایات ذکر ہوئیں ان سے چار اہم باتیں معلوم ہوئیں: (1)…حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا علم غیب:ان روایات سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم غیب کا علم رکھتے ہیں کیونکہ کسی کا حقیقی باپ کون ہے اس کا تعلق غیب سے ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کلی علم عطا فرمایا گیا ورنہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ نہ فرماتے کہ جو چاہو پوچھو بلکہ فرماتے کہ فلاں فلاں شعبے کے متعلق پوچھ لو یا فرماتے کہ صرف شریعت کے متعلق جو پوچھنا چاہو پوچھ لو۔ سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا بغیر کسی قید کے فرمانا کہ جوپوچھنا ہے پوچھو اور پوچھنے والوں کا بھی ہر طرح کی بات پوچھ لینا اس بات کی دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب کچھ جانتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم یہی عقیدہ رکھتے تھے۔ (2)…حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اختیارات: اخری روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے سرکار کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اختیار دیا ہے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جس چیز کو فرض فرمادیں وہ فرض ہوجائے۔ (3)… نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت پر شفقت: ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پرنورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنی امت پر نہایت شفیق ہیں۔ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اگر ایک مرتبہ ہاں فرمادیتے تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا لیکن تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے امت پر اسانی فرمائی اور ہاں نہیں فرمایا۔ نوٹ: سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علم غیب کے متعلق فتاوی رضویہ کی 29ویں جلد میں موجود اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کی درج ذیل کتابوں کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔ (1)خالص الاعتقاد(علم غیب سے متعلق 120دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب)(2)انباءالمصطفی بحال سر واخفی(حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوماکان ومایکون کاعلم دیئے جانے کا ثبوت)(3)ازاحۃ العیب بسیف الغیب (علم غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اوربدمذہبوں کا رد)۔اور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کائنات اور شریعت دونوں کے متعلق اختیارات جاننے کیلئے فتاوی رضویہ کی 30ویں جلد میں موجود اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کی عظیم تصنیف الامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء(مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دافع البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والاکہنے والوں کے لئے انعامات)کا مطالعہ فرمائیں۔ (4)… حلت و حرمت کا اہم اصول: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جس امر کی شریعت میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح و جائز ہے۔ حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث میں ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ’’ حلال وہ ہے جو اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اورحرام وہ ہے جس کو اس نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا تووہ معاف ہے۔( ترمذی کتاب اللباس باب ما جاء فی لبس الفراء ۳ / ۲۸۰ الحدیث: ۱۷۳۲)