Surah Al Maidah Ayat 105 (5:105)
The Table Spread · Juz 7 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 105
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ ہونے والا تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو تم سب کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{علیكم انفسكم: تم اپنی فکر کرو۔}مسلمان کفار کی اسلام سے محرومی پر افسوس کرتے تھے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کفار عناد میں مبتلا ہو کر دولت اسلام سے محروم رہے۔ اس ایت میں اللہ تعالی نے ان کی تسلی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ ضرر نہیں امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا فرض ادا کرکے تم بری الذمہ ہوچکے ہوتم اپنی نیکی کی جزا پاو گے ۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا: ’’اس آیت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے وجوب کی بہت تاکید کی ہے کیونکہ اپنی فکر رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ’’ایک دوسرے کی خبر گیری کرے نیکیوں کی رغبت دلائے اور بدیوں سے روکے۔( خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۱۰۵ ۱ / ۵۳۴) اور مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہنے کتنی پیاری بات ارشاد فرمائی جس کا خلاصہ ہے کہ تم اپنی فکر کرو یعنی عقائد درست کرکے نیک اعمال کر کے اپنی فکر کرو اعمال میں تبلیغ بھی شامل ہے لہذا جو قدرت کے باوجود تبلیغ نہ کرے وہ راہ پر ہی نہیں۔(نور العرفان المائدۃ تحت الایۃ: ۱۰۵ ص۱۹۸) نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے بارے میں احادیث : یہاں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کاذکر ہوا اس کی مناسبت سے ہم یہاں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے بارے 3 احادیث ذکر کرتے ہیں : (1)…حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ’’اے لوگو! تم یہ ایت پڑھتے ہو’’ یایها الذین امنوا علیكم انفسكم-لا یضركم من ضل اذا اهتدیتم‘‘اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ) دیکھیں اور اسے (ظلم سے) نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالی ان سب کو عذاب میں مبتلاء کر دے۔( ترمذی کتاب الفتن باب ما جاء فی نزول العذاب اذا لم یغیر المنکر ۴ / ۶۹ الحدیث: ۲۱۷۵) (2)…اور ایک مرتبہ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ’’اے لوگو تم اللہ تعالی کے اس فرمان’’علیكم انفسكم‘‘ کو پڑھ کر دھوکے میں مبتلا نہ ہو جانا کہ تم میں سے کوئی کہنے لگے ’’میں تو بس اپنی جان کی فکر کروں گا‘‘اللہ عزوجل کی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ تم پر تمہارے شریر لوگ حکمران بن جائیں گے جو تمہیں بڑی سخت تکلیفیں پہنچائیں گے پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے بھی توان کی دعا قبول نہ کی جائے گی۔( کنز العمال کتاب الاخلاق قسم الافعال الامر بامعروف والنہی عن المنکر ۲ / ۲۷۱ الجزء الثالث الحدیث: ۸۴۴۲ تفسیر طبری المائدۃ تحت الایۃ: ۱۰۵ ۵ / ۹۸-۹۹) (3)…حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’اے لوگو! تمہیں لازمی طور پر نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہو گا ورنہ اللہ تعالی تم پر ظالم حکمران مسلط کر دے گا جو تمہارے بڑوں کی بزرگی کا خیال نہیں رکھے گا اور تمہارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرے گا تمہارے نیک لوگ ا س کے خلاف دعا مانگیں گے لیکن ان کی دعا قبول نہ ہو گی اور تم مدد مانگو گے لیکن تمہیں مدد نہ ملے گی(احیاء علوم الدین کتاب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر الباب الاول فی وجوب الامر بالمعروف۔۔۔ الخ ۲ / ۳۸۳)۔[1] [1]۔۔۔۔۔ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی ترغیب جذبہ اور موقع پانے کے لئے دعوت اسلامی سے وابستگی اور مدنی قافلوں میں سفر بہت مفید ہے۔