Surah Al Maidah Ayat 108 (5:108)
The Table Spread · Juz 7 · Madani
ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ 108
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہ صحیح طریقے سے گواہی ادا کریں یا وہ اس بات سے ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد قسموں کو ( ورثاء کی طرف) لوٹا دیا جائے گا اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ قریب تر ہے اس سے کہ گواہی جیسی چاہیے ادا کریں یا ڈریں کہ کچھ قسمیں رد کردی جائیں ان کی قسموں کے بعد اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو اور اللہ بے حکموں کو راہ نہیں دیتا۔
Tafseer (Urdu)
{ ذلك ادنى:یہ قریب تر ہے۔} عدی اور تمیم کے واقعے میں گواہی اور قسم کا جو قانون بیان ہوا یعنی جن کے خلاف دعوی دائر کیا گیا قسمیں کھانے کے بعد ان کا جھوٹ ثابت ہو جائے تو اب میت کے ورثا میں سے دو شخص قسمیں کھائیں اس کی حکمت بتائی جا رہی ہے کہ لوگ اس واقعہ سے عبرت پکڑیں اور شہادتوں میں راہ حق و صواب نہ چھوڑیں اور اس بات سے ڈرتے رہیں کہ جھوٹی گواہی کا انجام شرمندگی و رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ جھوٹی قسم کھانے اور جھوٹی گواہی دینے کی مذمت: فی زمانہ لوگوں کی حالت اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ ان کے نزدیک جھوٹی قسم کھانا جھوٹی گواہی دینا جھوٹے مقدمات میں پھنسوا کر اپنے مسلمان بھائی کی عزت تار تار کر دینا لوہے کی سنگین سلاخوں کے پیچھے لاچارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دینا اپنے مسلمان بھائی کا ناحق مال ہڑپ کر جانا گویا کہ جرائم کی فہرست میں داخل ہی نہیں۔ اس دنیا کی فانی زندگی کو حرف اخر سمجھ بیٹھنا عقلمندی نہیں نادانی اور بیوقوفی کی انتہا ہے انہیں چاہئے کہ ان قرانی ایات اور ان احادیث کو بغور پڑھ کر عبرت حاصل کریں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے جھوٹی قسم پر حلف اٹھایا تاکہ اس کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرلے تو وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالی اس پر سخت ناراض ہو گا۔( بخاری کتاب الایمان والنذور باب عہد اللہ عزوجل ۴ / ۲۹۰ الحدیث: ۶۶۵۹) حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالی اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔( ابن ماجہ کتاب الاحکام باب شہادۃ الزور ۳ / ۱۲۳ الحدیث: ۲۳۷۳) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اس نے (اپنے اوپر) جہنم کو واجب کر لیا۔(معجم الکبیر عکرمۃ عن ابن عباس ۱۱ / ۱۷۲ الحدیث: ۱۱۵۴۱)