Surah Al Maidah Ayat 24 (5:24)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (پھر قوم نے ) کہا: اے موسیٰ! بیشک ہم تو وہاں ہرگز کبھی نہیں جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ اور آپ کا رب دونوں جاؤ اور لڑو ،ہم تویہیں بیٹھے ہوئے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولے اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ جائیے اور آپ کا رب تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{انا لن ندخلها ابدا: بیشک ہم تو وہاں ہرگزکبھی نہیں جائیں گے۔} بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جہاد میں جانے سے صاف انکار کردیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی افضلیت: اس سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ والوں سے کہیں افضل ہیں کیونکہ ان حضرات نے کسی سخت موقعہ پر بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ایسا روکھا جواب نہ دیا بلکہ اپنا سب کچھ حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر قربان کر دیا جیسے حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تمام نبیوں کے سردار ہیں ایسے ہی حضور انورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تمام نبیوں کے صحابہ کے سردار ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی جانثاری کے بارے میں جاننے کے لئے یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ جنگ بدر کے موقع پر سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے مشورہ فرمایا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہماری رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم ارشاد فرمائیں تو ہم اس میں کود جائیں گے۔(مسلم کتاب الجہاد والسیر باب غزوۃ البدر ص۹۸۱ الحدیث: ۸۳(۱۷۷۹)) انصار کے ایک معزز سردار حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہم حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور اپ کا خدا عزوجل جا کر لڑیں بلکہ ہم لوگ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دائیں سے بائیں سےاگے سے پیچھے سے لڑیں گے۔ یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا چہرہ انور خوشی سے چمک اٹھا۔(بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ تعالی: اذ تستغیثون ربکم۔۔۔ الخ ۳ / ۵ الحدیث: ۳۹۵۲)