Surah Al Maidah Ayat 50 (5:50)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَؕ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ 50
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور یقین والوں کے لیے اللہ سے بہتر کس کا حکم ہوسکتا ہے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے لیے۔
Tafseer (Urdu)
{افحكم الجاهلیة یبغون: تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں۔} اس ایت کاشان نزول یہ ہے کہ بنی نضیر اور بنی قریظہ یہودیوں کے دو قبیلے تھے ان میں اپس میں قتل و غارتگری جاری رہتی تھی ۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو یہ لوگ اپنا مقدمہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں لائے اور بنی قریظہ نے کہا کہ’’ بنی نضیر ہمارے بھائی ہیں ہم وہ ایک نسل سے ہیں ایک دین رکھتے ہیں اور ایک کتاب (توریت کو) مانتے ہیں لیکن اگر بنی نضیر ہم میں سے کسی کو قتل کریں تو وہ اس کے خون بہا میں ہمیں ستر وسق (ایک بڑا وزن) کھجوریں دیتے ہیں اور اگر ہم میں سے کوئی ان کے کسی آدمی کو قتل کرے تو ہم سے اس کے خون بہا میں ایک سو چالیس وسق لیتے ہیں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کا فیصلہ فرما دیں۔تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’ میں حکم دیتا ہوں کہ دونوں قبیلوں کے افراد کا خون برابر ہے کسی کو دوسرے پر فضیلت نہیں۔ اس پر بنی نضیر بہت برہم ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فیصلہ سے راضی نہیں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے دشمن ہیں ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۵۰ ۱ / ۵۰۲) اور فرمایا گیا کہ کیا جاہلیت کی گمراہی اور ظلم کا حکم چاہتے ہیں۔ جو حکم حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دیا ہے وہ اللہ تعالی کا حکم ہے اور اللہ تعالی کے حکم سے بڑھ کر کس کا حکم اچھا ہوسکتا ہے۔