Surah Al Maidah Ayat 51 (5:51)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ 51
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ، وہ (صرف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا۔
Tafseer (Urdu)
{یایها الذین امنوا لا تتخذوا الیهود و النصرى اولیآء:اے ایمان والو! یہود و نصاری کو دوست نہ بناؤ ۔} یہ آیت مشہور صحابی حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ اور مشہور منافق عبداللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی جو منافقین کا سردار تھا۔ حضرت عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یہودیوں میں میرے بہت بڑی تعداد میں دوست ہیں جو بڑی شوکت و قوت والے ہیںاب میں ان کی دوستی سے بیزار ہوں اور اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سوا میرے دل میں اور کسی کی محبت کی کوئی گنجائش نہیں۔اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا کہ میں تو یہودیوں کی دوستی سے بیزار نہیں ہوسکتا مجھے ائندہ پیش آنے والے واقعات کا اندیشہ ہے اور مجھے ان کے ساتھ تعلقات رکھنا ضروری ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ’’ یہ یہودیوں کی دوستی کا دم بھرنا تیرا ہی کام ہے عبادہ کا یہ کام نہیں۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۵۱ ۱ / ۵۰۳) کفار سے دوستی و موالات کا شرعی حکم : اس آیت میں یہود و نصاری کے ساتھ دوستی و موالات یعنی ان کی مدد کرنا ان سے مدد چاہنااور ان کے ساتھ محبت کے روابط رکھنا ممنوع فرمایا گیا ۔ یہ حکم عام ہے اگرچہ آیت کا نزول کسی خاص واقعہ میں ہوا ہو ۔ چنانچہ یہاں یہ حکم بغیر کسی قید کے فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناو یہ مسلمانوں کے مقابلے میں اپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تمہارے دوست نہیں کیونکہ کافر کوئی بھی ہوں اور ان میں باہم کتنے ہی اختلاف ہوں مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ سب ایک ہیں ’’ الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ کفر ایک ملت ہے۔ (مدارک المائدۃ تحت الایۃ: ۵۱ ص۲۸۹) لہذا مسلمانوں کو کافروں کی دوستی سے بچنے کا حکم دینے کے ساتھ نہایت سخت وعید بیان فرمائی کہ جو ان سے دوستی کرے وہ انہی میں سے ہے اس بیان میں بہت شدت اور تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود ونصاری اور دین اسلام کے ہرمخالف سے علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے۔ (مدارک المائدۃ تحت الایۃ: ۵۱ ص۲۸۹ خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۵۱ ۱ / ۵۰۳ ملتقطا) اور جو کافروں سے دوستی کرتے ہیں وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلامی حکومت میں کفار کو کلیدی اسامیاں نہ دی جائیں۔ یہ ایت مبارکہ مسلمانوں کی ہزاروں معاملات میں رہنمائی کرتی ہے اور اس کی حقانیت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ پوری دنیا کے حالات پر نظر دوڑائیں تو سمجھ ائے گا کہ مسلمانوں کی ذلت و بربادی کا اغاز تبھی سے ہوا جب اپس میں نفرت و دشمنی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر غیر مسلموں کو اپنا خیرخواہ اور ہمدرد سمجھ کر ان سے دوستیاں لگائیں اور انہیں اپنوں پر ترجیح دی۔ اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم عطا فرمائے۔