Surah Al Maidah Ayat 58 (5:58)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًاؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ 58
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تویہ اس کو ہنسی مذاق اورکھیل بنالیتے ہیں ۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ بالکل بے عقل لوگ ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا نادیتم الى الصلوة: اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو۔} اس ایت کے بارے میں کلبی کا قول ہے کہ جب سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا موذن نماز کے لئے اذان کہتا اور مسلمان اٹھتے تو یہود ی ہنستے اور تمسخر کرتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مفسر سدی نے بیان کیا کہ مدینہ طیبہ میں جب موذن اذان میں اشہدان لاالہ الا اللہ ‘‘ اور’’اشہدان محمدا رسول اللہ ‘‘کہتا تو ایک نصرانی یہ کہا کرتا کہ ’’جل جائے جھوٹا ‘‘ایک رات اس کا خادم آگ لایا وہ اور اس کے گھر کے لوگ سورہے تھے آگ سے ایک شرارہ اڑا اور وہ نصرانی اور اس کے گھر کے لوگ اور تمام گھر جل گیا۔(خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۵۸ ۱ / ۵۰۷) ایت’’و اذا نادیتم الى الصلوة‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے 3 مسئلے معلوم ہوئے : (1)… نماز پنج گانہ کے لئے اذان ہونی چاہیے اذان کا ثبوت اس ایت سے بھی ہے۔ (2)… دین کی کسی چیز کا مذاق اڑانا کفر ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے اذان کا مذاق اڑانے والوں کو کافر قرار دیاہے۔ ایسے ہی عالم مسجد خانہ کعبہ نماز روزہ وغیرہا میں سے کسی کا مذاق اڑانا کفر ہے۔ (3) دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والے احمق و بے عقل ہیں جو ایسے سفیہانہ اور جاہلانہ حرکات کرتے ہیں۔ دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والوں کا رد: اس ایت میں دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والوں کا کتنا شدید رد ہے ۔ افسوس کہ جو کام یہودی اور منافق کیا کرتے تھے وہی کام مسلمان کہلانے والوں میں اتے جارہے ہیں۔ نماز روزہ حج زکوۃ فرشتے جنت حوریں دوزخ اس کے عذاب قرانی ایات احادیث نبوی دینی کتابوں دینی شعائر عمامہ داڑھی مسجد مدرسے دیندار ادمی دینی لباس دینی جملے مقدس کلمات الغرض وہ کونسی مذہبی چیز ہے کہ جس کا اس زمانے میں کھلے عام فلموں ڈراموں خصوصا مزاحیہ ڈراموں عام بول چال دوستوں کی مجلسوں دنیاوی تقریروں ہنسی مذاق کی نشستوں اور باہمی گپ شپ میں مذاق نہیں اڑایا جاتا۔ افسوس کہ مسلمان کہلانے والے اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مسلمان کہلانے والوں کو داڑھی عمامہ مذہبی حلیے سے نفرت ہے۔ مسلمان کہلانے والے کو اذان سن کر تکلیف ہوتی ہے۔ قران وحدیث کی باتیں اسے پرانی باتیں لگتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ دینی شعائر کا مذاق اڑانا کفر ہے اوردین کا مذاق اڑانے والوں کے متعلق اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: و اذا علم من ایتنا شیــٴـاﰳ اتخذها هزوا-اولىك لهم عذاب مهین(الجاثیہ :۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی پر اطلاع پائے تواسے مذاق بناتا ہے ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اور فرماتا ہے: و لىن سالتهم لیقولن انما كنا نخوض و نلعب-قل ابالله و ایته و رسوله كنتم تستهزءون(۶۵)لا تعتذروا قد كفرتم بعد ایمانكم(التوبہ:۶۵ ۶۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو ۔بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔ اور فرماتا ہے: و ذر الذین اتخذوا دینهم لعبا و لهوا و غرتهم الحیوة الدنیا( انعام:۷۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنالیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے اور ان ایات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حالت پر غور کرنے اور اپنی اس روش کو تبدیل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین۔