Surah Al Maidah Ayat 63 (5:63)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ 63
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان کے درویش اور علماء انہیں گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے کیوں نہیں منع کرتے ۔ بیشک یہ بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanانہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے، بیشک بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{لو لا ینهىهم الربنیون: انہیں کیوں نہ روکاان کے پادریوں نے} حضرت حسن بصری رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اس ایت میں ’’الربنیون ‘‘سے عیسائیوں کے علماء مراد ہیں اور’’الاحبار‘‘سے یہودیوں کے علماء مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ یہودیوں کے بارے میں ہیں کیونکہ یہ ایات یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔(تفسیر کبیر المائدۃ تحت الایۃ: ۶۳ ۴ / ۳۹۳) اورایک لفظ سے یہودیوں کے درویش مراد ہیں اور دوسرے لفظ سے یہودیوں کے علماء مراد ہیں۔ علماء پر برائی سے منع کرنا ضروری ہے: یہاں یہودی درویشوں اور علماء کے متعلق فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قوم کو گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے کیوں نہ روکا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عالم دین کی اس بات پر بھی پکڑ ہوگی کہ وہ گناہ ہوتے ہوئے دیکھیں اور قدرت کے باوجود منع نہ کریں کیونکہ ایسا عالم گناہ کرنے والے کی طرح ہے۔ امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’گناہ روحانی مرض ہے اور ا س کا علاج اللہ تعالی کی اس کی صفات کی اور ا س کے احکام کی معرفت ہے اور یہ علم حاصل ہونے کے باوجود گناہ ختم نہ ہوں تو یہ اس مرض کی طرح ہے جو کسی شخص کو ہو اور دوائی کھانے کے باوجود وہ مرض ختم نہ ہو اور عالم کا گناہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا یہ قلبی مرض انتہائی شدید ہے۔(تفسیر کبیر المائدۃ تحت الایۃ: ۶۳ ۴ / ۳۹۳) عالم پر واجب ہے کہ خود بھی سنبھلے اور دوسروں کو بھی سنبھالے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی ا للہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : قران پاک میں (علماء کے لئے) اس ایت سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ والی کوئی ایت نہیں۔(خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۶۳ ۱ / ۵۰۹) اور فرماتے ہیں : قران پاک میں یہ ایت (علماء کے بارے میں ) بہت سخت ہے کیونکہ اللہ تعالی نے برائی سے منع کرنا چھوڑ دینے والے کو برائی کرنے والے کی وعید میں داخل فرمایا ہے۔(مدارک المائدۃ تحت الایۃ: ۶۳ ص۲۹۲-۲۹۳) امام ضحاک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : میرے نزدیک اس ایت سے زیادہ خوف دلانے والی قران پاک میں کوئی ایت نہیں افسوس کہ ہم برائیوں سے نہیں روکتے ۔ (تفسیر طبری المائدۃ تحت الایۃ: ۶۳ ۴ / ۶۳۸)