Surah Al Maidah Ayat 71 (5:71)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ 71
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہوں نے یہ گمان کیا کہ انہیں کوئی سزا نہ ہوگی تو یہ اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس گمان میں رہے کہ کوئی سزا نہ ہوگی تو اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں بہتیرے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و حسبوا الا تكون فتنة: اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ (انہیں اس پر) کوئی سزا نہ ہوگی۔} یہودو نصاری اتنے سنگین جرائم کی مرتکب ہوئے کہ دونوں نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا اور بطور خاص یہودیوں نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو شہید بھی کیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ گمان کیا کہ ایسے شدید جرموں پر بھی انہیں عذاب نہیں دیا جائے گا تو یہ اندھے اور بہرے ہوگئے یعنی حق دیکھنے سے اندھے اور حق سننے سے بہرے ہوگئے اور ویسے بھی وہ عقل و شعور سے اندھے بہرے تھے کہ ایسے جرائم کے باوجود بھی خود کو سزا سے محفوظ سمجھتے رہے۔ پھر جب انہوں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد توبہ کی تواللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کی لیکن پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اسی سابقہ روش پر چل پڑے۔ دو مرتبہ اندھاا ور بہرہ ہونے سے کیا مراد ہے اس بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں : (1)…یہودی حضرت زکریا حضرت یحیی اور حضرت عیسی علیہم الصلوۃ والسلام کے زمانے میں عقل کے اعتبار سے اندھے اور بہرے ہوگئے پھر ان میں سے بعض کی توبہ اللہ تعالی نے قبول فرمائی کہ انہیں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی توفیق دی ۔پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں ان کی نبوت و رسالت کا انکار کر کے بہت سے یہودی دل کے اندھے اور بہرے ہو گئے۔ (2)… پہلی مرتبہ تب دل کے اندھے اور بہرے ہوئے جب انہوں نے بچھڑے کی پوجا کی پھر اس سے انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرما لی پھر دوسری مرتبہ ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے تب ہوئے جب انہوں نے فرشتوں کے نزول اور رویت باری تعالی کا مطالبہ کیا۔ (3)… دو مرتبہ بصیرت کے اندھے اور بہرے ہونے کی تفسیر سورہ بنی اسرائیل کی 4سے لے کر7تک وہ ایات ہیں جن میں یہ خبر دی گئی کہ یہودی دو مرتبہ زمین میں فساد کریں گے۔ (تفسیر کبیر المائدۃ تحت الایۃ: ۷۱ ۴ / ۴۰۷)