Surah Al Maidah Ayat 79 (5:79)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ 79
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ ایک دوسرے کو کسی برے کام سے منع نہ کرتے تھے جو وہ کیا کرتے تھے۔ بیشک یہ بہت ہی برے کام کرتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو بری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{كانوا لا یتناهون عن منكر:وہ ایک دوسرے کو کسی برے کام سے منع نہ کرتے تھے ۔}یہودیوں کی ایک سر کشی یہ تھی کہ انہوں نے برائی ہوتی دیکھ کر ایک دوسرے کو اس سے منع کرنا چھوڑ دیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے پہلے تو انہیں منع کیا جب وہ باز نہ آئے تو پھر وہ علماء بھی ان سے مل گئے اور کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے میں ان کے ساتھ شامل ہوگئے ان کی اسی نافرمانی اور سرکشی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالی نے حضرت داود اورحضرت عیسی علیہما الصلوۃ والسلام کی زبان سے ان پر لعنت اتاری۔ (ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ ۵ / ۳۵ الحدیث: ۳۰۵۸) گناہ سے روکنا واجب اور منع کرنے سے باز رہنا گناہ ہے: اس سے معلوم ہوا کہ برائی سے لوگوں کو روکنا واجب ہے اور گناہ سے منع کرنے سے باز رہنا سخت گناہ ہے۔ اس سے ان علماء کو اور بطور خاص ان پیروں کواپنے طرز عمل پر غور کرنے کی حاجت ہے کہ جواپنے ماننے والوں میں یا مریدین و معتقدین میں اعلانیہ گناہ ہوتے دیکھ کر اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرے منع کرنے سے لوگ گناہ سے باز ا جائیں گے پھر بھی ’’یا شیخ اپنی اپنی دیکھ ‘‘کا نعرہ لگاتے نظر اتے ہیں۔ حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن عذری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ اس علم کو ہر پچھلی جماعت میں سے پرہیز گار لوگ اٹھاتے رہیں گے اور وہ غلو کرنے والوں کی تحریفیں اہل باطل کے جھوٹے دعووں اور جاہلوں کی غلط تاویل و تشریح کو دین سے دور کرتے رہیں گے۔(سنن الکبری للبیہقی کتاب الشہادات باب الرجل من اہل الفقہ۔۔۔ الخ ۱۰ / ۲۵۳ الحدیث: ۲۰۹۱۱) مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اس میں غیبی بشارت ہے کہ تاقیامت میرے دین میں علماءے خیر پیدا ہوتے رہیں گے ۔ جو علم دین کو پڑھتے پڑھاتے اور تبلیغ کرتے رہیں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ صالحین کو سلف اور پچھلوں کو خلف کہا جاتا ہے لہذا ہر جماعت صالحین اگلوں کے لحاظ سے خلف اور پچھلوں کے لحاظ سے سلف ہے۔ حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’یعنی مسلمانوں میں بعض جاہل علماء کی شکل میں نمودار ہو کر قرآن و حدیث کی غلط تاویلیں اور معنوی تحریفیں کردیں گے وہ مقبول جماعت ان تمام چیزوں کو دفع کرے گی ۔ الحمد للہ !آج تک ایسا ہورہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہوگا دیکھ لو علماءے دین کی سرپرستی نہ حکومت کرتی ہے نہ قوم لیکن پھر بھی یہ جماعت پیدا ہو رہی ہے اور خدمت دین برابر کررہی ہے۔(مراۃ المناجیح کتاب العلم الفصل الثانی ۱ / ۲۰۱ تحت الحدیث: ۲۳۰)