Surah Al Maidah Ayat 80 (5:80)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ 80
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں توان کی جانوں نے ان کے لئے کتنی بری چیز آگے بھیجی کہ ان پراللہ نے غضب کیا اور یہ لوگ ہمیشہ عذاب میں ہی رہیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں ، کیا ہی بری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{یتولون الذین كفروا:کافروں سے دوستی کرتے ہیں۔} پچھلی ایات میں گزشتہ زمانے کے یہودیوں کی مذموم صفات اور ان کے عیوب و نقائص کا بیان تھا اب حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ مبارکہ کے یہودیوں کی برائیوں اور سازشوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ شان نزول: کعب بن اشرف یہودی اور اس کے ساتھی سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بغض و عناد کی وجہ سے مشرکین مکہ کے پاس پہنچے اور انہیں تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جنگ کرنے پر ابھارا لیکن یہ لوگ اپنی اس کوشش میں ناکام و نامراد ہوئے اس واقعے سے متعلق یہ ایت نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :اس کا معنی یہ ہے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم منافقین میں سے بہت سوں کو دیکھیں گے کہ وہ یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں۔(خازن المائدۃ تحت الایۃ: ۸۰ ۱ / ۵۱۷) کفار سے دوستی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالی کا غضب ان پر نازل ہوااور اخرت میں دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ کفار سے دوستی کا دم بھرنے والے مسلمانوں کے لئے تازیانہ عبرت: معلوم ہوا کے کفار سے دوستی اور موالا ت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ یہ ایت مبارکہ ان مسلمانوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے جو کفار کی مسلمانوں سے کھلی دشمنی اپنی روشن انکھوں سے دیکھنے کے باوجود صرف اپنے منصب کی بقا کی خاطران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتےان کی ہاں میں ہاں ملاتے اور ان کی ناراضی سے خوف کھاتے ہیں۔ اللہ تعالی سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔